اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہ ہونے کی توقع ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مسائل کو بات چیت اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے سامنے اپنے بحری بیڑے کی موجودگی ظاہر کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسے استعمال کرنا فی الحال غیر ضروری ہے اور پہلے بھی ایران کے ساتھ متعدد مذاکرات ہو چکے ہیں، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ تعلقات میں تصادم سے بچنا اور بات چیت کو ترجیح دینا خطے میں امن کے لیے نہایت اہم ہے۔
ٹرمپ نے کیوبا کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے نزدیک کیوبا کی موجودہ حکومت آئندہ برقرار نہیں رہ پائے گی۔ انہوں نے برطانیہ کو چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات پر محتاط رہنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ یہ تعلقات برطانیہ کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر چکے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے کینیڈا کے لیے بھی خبردار کیا کہ چین کے ساتھ کاروبار برطانیہ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے اور اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ صدر کے مطابق بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات میں غیر محتاط رویہ اتحادی ممالک کے اقتصادی مفادات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو چین کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں خطرات کو سمجھنا چاہیے اور ہوشیاری کے ساتھ قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اور اقتصادی فیصلہ سازی میں محتاط رہنا ضروری ہے تاکہ غیر متوقع مشکلات اور نقصان سے بچا جا سکے۔ صدر کے اس بیان کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ امریکہ عالمی سطح پر کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے بات چیت اور حکمت عملی کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتا ہے، اور اتحادی ممالک کو بھی یہی رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔