اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے احساسات اور مزاج ہمارے اپنے اختیار میں ہوتے ہیں، مگر جدید سائنس اس خیال کو چیلنج کرتی ہے۔
سائنسدان بتاتے ہیں کہ انسانی جسم میں 50 سے زائد ہارمون بن رہے ہوتے ہیں جو نہ صرف جسمانی افعال کو چلاتے ہیں بلکہ ہمارے جذبات، سوچ، ذہنی کیفیت، توانائی اور رویے تک پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھ رہی ہے، یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ہارمونز اور دماغ کے درمیان تعلق جذباتی اور ذہنی صحت کا بنیادی عنصر ہے۔
ہارمون دراصل کیمیائی اشارے ہیں جو غدود سے خارج ہو کر خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچتے ہیں اور مخصوص خلیوں سے جڑ کر انہیں کوئی حکم دیتے ہیں — بالکل ایسے جیسے فون پر بھیجا گیا میسج کسی مخصوص فرد تک پہنچتا ہے۔ مثال کے طور پر **انسولین** خلیوں کو بتاتی ہے کہ خون میں سے گلوکوز جذب کر کے اسے توانائی یا ذخیرہ شدہ ایندھن میں تبدیل کریں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ہارمونز اور دماغی کیمیکلز (نیوروٹرانسمیٹرز) آپس میں مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، اسی لیے اگر ہارمونز کا توازن بگڑ جائے تو موڈ میں شدید اتار چڑھاؤ، ڈپریشن، بےچینی، غصہ، چڑچڑاپن، یا جذباتی تھکن پیدا ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ذہنی بیماریوں کے جدید علاج میں ہارمونل تحقیق خصوصی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
خواتین میں ہارمون اور جذبات
تحقیقات کے مطابق بلوغت کے بعد ڈپریشن کی شرح خواتین میں مردوں کے مقابلے میں دو گنا بڑھ جاتی ہے، اور یہ فرق پوری زندگی برقرار رہتا ہے۔ اس کا بڑا سبب **تولیدی ہارمونز** (جیسے ایسٹروجن اور پروجیسٹرون) کے اتار چڑھاؤ کو سمجھا جاتا ہے۔ماہواری سے پہلے اکثر خواتین چڑچڑاہٹ، تھکن، اداسی یا بےچینی محسوس کرتی ہیں، کیونکہ اس دوران ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی سطح کم ہونے لگتی ہے۔ کچھ خواتین میں یہی کیفیت شدت اختیار کر کے **PMDD** (پری مینسٹرول ڈائسفورک ڈس آرڈر) کی شکل اختیار کر لیتی ہے، جس میں موڈ سوئنگس، خودکشی کے خیالات تک ظاہر ہو سکتے ہیں۔
حمل، بچے کی پیدائش، اور سن یاس (Menopause) کے دوران بھی ہارمونز میں تیز تبدیلیاں آتی ہیں، جس کے باعث کئی خواتین ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پیدائش کے بعد تقریباً 13 فیصد خواتین میں فوری یا دیرپا ذہنی دباؤ دیکھا گیا ہے۔
مرد اور ہارمونل تبدیلیاں
مردوں میں عمر کے ساتھ ٹیسٹوسٹیرون آہستہ آہستہ کم ہوتا ہے۔ یہ کمی اگر معمول سے زیادہ ہوجائے تو اس سے موڈ، توانائی، اعتماد اور جذباتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ٹیسٹوسٹیرون میں کمی بعض مردوں میں ڈپریشن اور بےرغبتی بڑھا دیتی ہے۔
کورٹیسول: پریشانی کا ہارمون
جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ میں رہے تو جسم **کورٹیسول** نامی ہارمون خارج کرتا ہے جو وقتی طور پر جسم کو چوکنا رکھتا ہے، لیکن اگر یہ طویل عرصے تک بلند رہے تو دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، یادداشت کمزور کرتا ہے، اور نیند و موڈ پر منفی اثر چھوڑتا ہے۔اسی مستقل تناؤ کی وجہ سے دماغی حصے جیسے ہپوکیمپس اور پریفرنٹل کارٹیکس** سکڑ سکتے ہیں، جس سے یادداشت، فیصلہ سازی اور جذبات پر قابو متاثر ہوتا ہے۔
آکسیٹوسن: محبت اور اعتماد کا ہارمون
اس کے برعکس آکسیٹوسن وہ ہارمون ہے جو محبت، تعلق، ہمدردی اور تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ یہ ماں بننے، بچے کو دودھ پلانے یا کسی کے ساتھ جذباتی تعلق کے دوران زیادہ خارج ہوتا ہے۔ اس ہارمون کے بڑھنے سے کورٹیسول کم ہوتا ہے، اسی لیے ماہرین اسے "Anti-Stress Hormone” بھی کہتے ہیں۔
تھائیرائیڈ ہارمون اور ذہنی کیفیت
گردن کے پاس موجود تھائیرائیڈ غدہ دو اہم ہارمون T3 اور T4 بناتا ہے جو دل، توانائی، جسمانی درجہ حرارت اور دماغی سرگرمیوں کو منظم کرتے ہیں۔* اگر یہ ہارمون بہت زیادہ ہوں → بےچینی، دل کی دھڑکن تیز، چڑچڑاہٹ
اگر یہ بہت کم ہوں → تھکن، ڈپریشن، سستی، اداسیاسی وجہ سے ڈاکٹروں کا پہلا ٹیسٹ اکثر "تھائیرائیڈ لیولز” ہوتا ہے، جب مریض موڈ یا ذہنی دباؤ کی شکایت کرتا ہے۔
مستقبل کی تحقیق اور علاج
اب سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہارمونز کو ذہنی بیماریوں کے علاج میں بہتر طریقے سے کیسے استعمال کیا جائے۔ کچھ نئی دوائیں، جیسے **Brexanolone** (پوسٹ پارٹم ڈپریشن کیلئے)، ہارمونل میکانزم پر ہی کام کرتی ہیں۔ اسی طرح ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی (HRT)، ٹیسٹوسٹیرون سپلیمنٹس اور ہارمونل برتھ کنٹرول کو بھی ذہنی صحت کے علاج میں مفید پایا گیا ہے — لیکن ہر مریض کیلئے نہیں۔
سب سے بڑا سوال اب یہ ہے: **کچھ لوگ ہارمونز کے بدلاؤ سے بہت متاثر کیوں ہوتے ہیں، اور کچھ بالکل نہیں؟** اس کا جواب مل جائے تو ذہنی صحت کا علاج زیادہ مؤثر اور ذاتی نوعیت کا ہوسکے گا۔