روبوٹ کیلئے انسان کی طرح درد محسو س کرنیوالی مصنوعی جلد تیا ر

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )چین کے سائنس دانوں نے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک بڑی اور انقلابی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

جدید تحقیق کے نتیجے میں ایسی مصنوعی جلد تیار کی گئی ہے جو روبوٹ کو نہ صرف لمس کا احساس دلا سکتی ہے بلکہ انہیں انسانوں کی طرح درد محسوس کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔ اس پیش رفت کو روبوٹ اور انسان کے درمیان فرق کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید الیکٹرانک اسکن ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی میں تیار کی گئی ہے، جہاں انجینئر یو یو گاؤ کی قیادت میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم گزشتہ کئی برسوں سے نیورومورفک ٹیکنالوجی پر تحقیق کر رہی تھی۔ نیورومورفک ٹیکنالوجی دراصل ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانی دماغ اور اعصابی نظام کے کام کرنے کے انداز کو نقل کرتی ہے، تاکہ مشینیں بھی انسانوں کی طرح فوری اور فطری ردعمل دے سکیں۔
ماہرین کے مطابق اس مصنوعی جلد کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ بالکل انسانی جلد اور اعصابی نظام کی طرح کام کرتی ہے۔ جب کوئی چیز روبوٹ کی اس جلد کو چھوتی ہے تو یہ لمس کو فوراً برقی سگنلز میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ سگنلز انسانی اعصاب کی طرح براہ راست روبوٹ کے نظام تک پہنچتے ہیں، جس کے نتیجے میں روبوٹ فوری ردعمل ظاہر کرتا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر روبوٹ کسی نوکیلی، سخت یا انتہائی گرم چیز کو چھو لے تو یہ مصنوعی جلد انسانوں کی طرح فوراً خطرے کو محسوس کر لیتی ہے۔ ایسے میں روبوٹ کا ہاتھ یا متعلقہ عضو بغیر کسی تاخیر کے پیچھے ہٹ جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انسان لاشعوری طور پر درد سے بچنے کے لیے ردعمل دیتا ہے۔ یہ صلاحیت اس سے پہلے روایتی روبوٹس میں موجود نہیں تھی، کیونکہ انہیں ہر حرکت کے لیے مرکزی کمپیوٹر یا پروسیسر کی ہدایات کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ مصنوعی جلد چار مختلف فعال تہوں پر مشتمل ہے، جن میں ہر تہہ کا اپنا مخصوص کردار ہے۔ پہلی تہہ بیرونی رابطے کو محسوس کرتی ہے، دوسری تہہ دباؤ اور درجہ حرارت کا تجزیہ کرتی ہے، تیسری تہہ سگنلز کو پروسیس کرتی ہے جبکہ چوتھی تہہ انہیں موٹر سسٹم تک منتقل کرتی ہے۔ ان تمام تہوں کے مربوط عمل کے نتیجے میں روبوٹ ایک مکمل حیاتیاتی ردعمل کی نقل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اگر دباؤ ہلکا ہو، مثلاً کسی نرم چیز کا لمس، تو روبوٹ اسے عام رابطہ سمجھ کر اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ تاہم جیسے ہی دباؤ یا حرارت ایک مخصوص حد سے تجاوز کرتی ہے، مصنوعی جلد اسے خطرے یا درد کے طور پر شناخت کر لیتی ہے۔ اس مرحلے پر روبوٹ کا ردعمل نہایت تیز اور خودکار ہوتا ہے، جس میں انسانی دماغ کی مداخلت کے بغیر ہی حفاظتی اقدام کر لیا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی سب سے منفرد اور قابلِ توجہ خصوصیت اس کا ریفلیکس سسٹم ہے۔ عام روبوٹس میں تمام معلومات پہلے مرکزی پروسیسر تک جاتی ہیں، جہاں ان کا تجزیہ ہوتا ہے اور پھر ردعمل دیا جاتا ہے۔ اس عمل میں وقت لگتا ہے، جو بعض خطرناک حالات میں نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم اس نئی مصنوعی جلد میں ریفلیکس سسٹم براہ راست جلد میں ہی موجود ہے، جو خطرے کی صورت میں فوری طور پر موٹرز کو ہائی وولٹیج سگنل بھیجتا ہے۔
اسی فوری سگنل کے نتیجے میں روبوٹ کا ہاتھ، بازو یا دیگر عضو فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور اسے مرکزی دماغ سے ہدایات لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ماہرین کے مطابق یہی وہ خصوصیت ہے جو اس مصنوعی جلد کو روایتی روبوٹک سینسرز سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس مصنوعی جلد کو نہ صرف حساس بلکہ انتہائی مضبوط بھی بنایا گیا ہے۔ یہ جلد ننھے ننھے مقناطیسی ماڈیولز سے تیار کی گئی ہے، جو بلڈنگ بلاکس کی طرح آپس میں جڑتے ہیں۔ اس ڈیزائن کا فائدہ یہ ہے کہ اگر جلد کا کوئی حصہ خراب ہو جائے تو پورا نظام متاثر نہیں ہوتا۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس مصنوعی جلد کا ہر سینسر یونٹ مسلسل ایک ہلکا سا برقی سگنل خارج کرتا رہتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ درست طریقے سے کام کر رہا ہے۔ اگر کسی وجہ سے جلد کا کوئی حصہ کٹ جائے، پھٹ جائے یا ناکارہ ہو جائے تو اس سینسر کا سگنل فوراً رک جاتا ہے، جس سے روبوٹ خود ہی چوٹ یا خرابی کی نشاندہی کر لیتا ہے۔
اگرچہ یہ مصنوعی جلد خود کو ازخود ٹھیک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، تاہم اس کا ماڈیولر ڈیزائن اسے آسانی سے قابلِ مرمت بناتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق مقناطیسی نظام کی مدد سے خراب حصہ چند ہی سیکنڈ میں نکال کر اس کی جگہ نیا ماڈیول نصب کیا جا سکتا ہے، جس سے وقت اور لاگت دونوں میں نمایاں بچت ممکن ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں صنعتی روبوٹس، طبی شعبے، مصنوعی اعضا (پروسیتھٹکس) اور خطرناک ماحول میں کام کرنے والے روبوٹس کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر فیکٹریوں میں، جہاں روبوٹس کو بھاری مشینری اور تیز دھار آلات کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے، یہ مصنوعی جلد انہیں خود کو نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہی ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے مصنوعی ہاتھ یا پاؤں بنانے میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے، جو انسانی اعصاب کی طرح درد اور لمس کو محسوس کر سکیں۔ اس سے معذور افراد کی زندگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے اور وہ زیادہ قدرتی انداز میں روزمرہ کے کام انجام دے سکیں گے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ روبوٹس نہ صرف درد بلکہ درجہ حرارت، نمی اور دیگر پیچیدہ احساسات کو بھی زیادہ باریکی سے سمجھ سکیں۔ماہرین کے نزدیک چین کی یہ کامیابی روبوٹکس کی دنیا میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو انسان اور مشین کے درمیان تعلق کو ایک نئی سطح تک لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں ایسے روبوٹس کا تصور کیا جا رہا ہے جو نہ صرف انسانوں کے ساتھ کام کریں گے بلکہ ماحول کو سمجھ کر خود کو محفوظ رکھنے کے قابل بھی ہوں گے، بالکل انسانوں کی طرح۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں