اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) ایران کی فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ
اگر امریکا میں ہمت ہے تو وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز تعینات کر کے دکھائے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے بیان میں کہا کہ اگر امریکا واقعی تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنا چاہتا ہے تو اپنے جنگی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں بھیج کر آئل ٹینکرز کو وہاں سے گزار کر دکھائے۔
ایرانی فوج کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت بھی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے، تاہم اگر کوئی امریکی یا اسرائیل سے تعلق رکھنے والا جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنا شروع کر سکتی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ممکنہ صورتحال میں امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرے گی جبکہ جہازوں کی انشورنس کے معاملے میں امریکی مالیاتی ادارے بھی مدد فراہم کریں گے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کے متعدد تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنا خام تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔ ان ممالک میں سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی سنگین اثرات کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے منتقل کیا جاتا ہے۔