اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو امریکا فیصلہ کن کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو اپنی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر بند رکھنا ہوں گی، کیونکہ واشنگٹن کسی بھی صورت میں ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکا کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے ایران کے جوہری عزائم کو مؤثر طور پر روکے رکھا۔ ان کے مطابق اگر امریکا نے بروقت کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران بہت کم عرصے، یعنی تقریباً دو ماہ کے اندر، جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا۔ انہوں نے اس موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا کی پالیسی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکا جائے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے زور دیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش ترک کر دینی چاہیے اور عالمی برادری کے ساتھ ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی نوبت نہیں آئے گی اور معاملات سفارتی دائرے میں ہی حل ہو سکیں گے، بشرطیکہ ایران اپنے اقدامات میں سنجیدگی دکھائے۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان جنگی صورتحال ٹل گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا اور بڑے تصادم کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی داخلی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں عوام کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے تھے اور سڑکوں پر لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ان کے بقول، امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کے منصوبے کو مؤخر کر دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی دباؤ تہران کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایک بار پھر امریکا کی سخت گیر ایران پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا اور ایران کے جوہری پروگرام کو ہر صورت محدود رکھنا ہے۔