اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے ملک میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی قسم کی مداخلت کی تو اس کا سخت اور براہِ راست جواب دیا جائے گا، اور ایسی صورتحال میں اسرائیل کا اہم جوہری مرکز دیمونا ایران کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک نیم سرکاری خبر رساں ادارے نے ایک اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری اور سیاسی نظام کے خلاف کسی بھی بیرونی سازش کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
ایرانی فوجی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کا دیمونا جوہری مرکز ممکنہ طور پر ان اہداف میں شامل ہوگا جنہیں ہنگامی صورتحال میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ایسے حساس اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل عسکری صلاحیت موجود ہے اور ملک کی دفاعی حکمت عملی اسی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ تنازع صرف محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ عہدیدار کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور ریاستی نظام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی خودمختاری اور علاقائی مفادات کے دفاع کو اولین ترجیح دے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاعی ادارے ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو بھرپور ردعمل دیا جائے گا تاکہ ایران کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔