اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ہنگامی معاشی اقدامات پر مشتمل ایک جامع منصوبہ طلب کر لیا ہے اور معاشی اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے جاری اصلاحات کو تیز کیا جائے، ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور سرکاری مالیاتی کارکردگی کو مضبوط بنایا جائے۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وزارت خزانہ پاکستان، وزارت توانائی پاکستان اور وزارت تجارت پاکستان مشترکہ طور پر علاقائی کشیدگی کی صورت میں معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی پالیسی پلان تیار کر رہی ہیں۔ اس منصوبے میں توانائی، تجارت اور مالیاتی شعبوں میں فوری اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کے حکام نے عالمی مالیاتی فنڈ کو ٹیکس اہداف حاصل نہ ہونے کی وجوہات سے آگاہ کیا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ تیرہ ہزار نو سو اناسی ارب روپے کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دیا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ ٹیکس نیٹ کی محدود توسیع اور وصولی کے نظام میں موجود خامیاں بتائی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے دو ہزار چار کے قواعد میں مجوزہ ترامیم پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ مسابقتی کمیشن پاکستان، قومی احتساب بیورو پاکستان اور آڈیٹر جنرل پاکستان کو خریداری کے اعداد و شمار تک رسائی دینے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاق اور تین صوبوں میں سرکاری خریداری کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے ای پیڈ سسٹم کو وسعت دی جائے گی اور اسے جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ رائٹ سائزنگ کمیٹی کی سفارشات پر بھی بات چیت ہوئی، جس کے تحت حکومتی اخراجات میں کمی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے فیصلے کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق دو ہزار پچیس کے اختتام تک تقریباً چون ہزار سرکاری آسامیوں کو ختم کیا جا چکا ہے جس سے سالانہ تقریباً چھپن ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مالیاتی دباؤ کم کرنے اور حکومتی اخراجات کو متوازن رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد کے ساتھ آج صوبائی حکام کی بھی ورچوئل ملاقاتیں شیڈول ہیں جن میں معاشی اصلاحات اور علاقائی صورتحال کے اثرات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔