اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں دفاعی اور داخلی سلامتی سے متعلق کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں سول آرمڈ فورسز کے دفاعی آلات، داخلی سلامتی، بارڈر کنٹرول اور امن و امان کے لیے مجموعی طور پر اربوں روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دی گئی، جبکہ متعدد انتظامی اصلاحات سے متعلق سفارشات بھی منظور ہوئیں۔
اجلاس میں سب سے پہلے وفاقی سول آرمڈ فورسز کے دفاعی آلات کی مرمت کے لیے 10 کروڑ 3 لاکھ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔ اس اقدام کا مقصد فورسز کے موجودہ آلات کو فوری طور پر آپریشنل حالت میں برقرار رکھنا ہے تاکہ داخلی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ خبربھی پڑھیں :وفاقی کابینہ نے وزراء ،مشیروں کی تنخواہوں میں 188فیصد اضافے کی منظوری دے دی
مزید برآں، داخلی سلامتی، بارڈر کنٹرول اور امن و امان کے لیے سول آرمڈ فورسز کو 84 کروڑ 15 لاکھ 60 ہزار روپے کی اضافی گرانٹ بھی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق دفاعی خدمات سے متعلق بڑے منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے تک کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کر لی گئی، جو ملک کی مجموعی دفاعی ضرورتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ای سی سی نے زرعی اجناس کے حکومتی خریداری ادارے پاسکو (PASSCO) کے خاتمے اور اس کی جگہ ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے کی منظوری بھی دی۔ نئے ایس پی وی (SPV) ادارے کے لیے ابتدائی سرمایہ 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کا مقصد اجناس کے ذخیرے اور سٹریٹیجک فوڈ سیکورٹی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی سمری بھی منظور کی گئی جس کے تحت آف شور آئل اینڈ گیس بلاکس کی لائسنس مدت میں توسیع اور ورکنگ انٹرسٹ کی تبدیلی کی اجازت دی گئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نئی مراعاتی تجاویز بھی منظور ہوئیں، تاکہ توانائی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاروں کو مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق منظور شدہ تمام فنڈز تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کے طور پر جاری کیے جائیں گے اور انہیں مکمل طور پر داخلی سلامتی اور امن و امان کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔