اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے ایکس (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مختلف ادوار میں پی ٹی اے نے بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے درخواستیں بھیجی، تاہم یہ مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔
پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق سب سے پہلی درخواست 21 اگست 2022 کو ارسال کی گئی تھی، جس میں عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کہا گیا۔ اس کے بعد 18 اپریل 2024 کو توشہ خانہ، سائفر اور عدت کیسز میں سزاؤں کے حوالے سے دوبارہ درخواست بھیجی گئی۔ مزید برآں، 27 نومبر 2025 کو بانی پی ٹی آئی کی 47 ٹویٹس بلاک کرنے کے لیے ایکس کو لکھا گیا، لیکن ساڑھے تین سال کے دوران تین مرتبہ درخواستیں بھیجنے کے باوجود ایکس نے مجموعی طور پر یہ درخواستیں مسترد کر دیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27 نومبر 2025 کی درخواست میں سے ایکس نے صرف ایک ٹویٹ بلاک کی۔
پی ٹی اے کی رپورٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیز کو پاکستان میں اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر کرنے کا کہا گیا، مگر کمپنیز نہ تو رجسٹر ہوئیں اور نہ ہی پاکستان میں کوئی نمائندہ مقرر کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمپنیاں اپنے اپنے ممالک میں رجسٹرڈ ہیں اور دوسرے ممالک کے قوانین کی پابند نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دوسرے ممالک سے موصول ہونے والی شکایات کو اپنے قوانین کے مطابق ہی دیکھتی ہیں۔
یہ رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کی گئی، جس میں حکومت کی جانب سے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کو محدود یا بند کرنے کی کوششوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔