اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) قوامِ متحدہ جنرل اسمبلی نے منگل کو مسئلہ فلسطین کے پر امن حل اور شامی علاقے جولان کے حوالے سے دو اہم قراردادیں منظور کر لیں۔
جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر منظور شدہ قرارداد کے حق میں 151 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ 11 نے مخالفت کی اور 11 نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔قرارداد جیبوتی، اردن، موریتانیا، قطر، سینیگال اور فلسطین کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے غیر قانونی قبضہ ختم کرے، نئی آبادیاں روک دے، موجودہ آبادکاروں کو نکالے اور 1967 سے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا کرے۔چینی مندوب نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں، غزہ میں مستقل جنگ بندی اور انسانی بحران میں کمی کو یقینی بنایا جائے، اور دو ریاستی حل پر پیشرفت کی جانی چاہیے۔اسی اجلاس میں شامی جولان کے حوالے سے بھی قرارداد منظور ہوئی، جس کے حق میں 123 ووٹ، مخالفت میں 7 ووٹ آئے جبکہ 41 ممالک نے حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ 1981 میں جولان پر اسرائیلی قوانین اور انتظامیہ نافذ کرنے کا فیصلہ باطل اور غیر مؤثر ہے اور اسرائیل کو تمام مقبوضہ شامی جولان سے 4 جون 1967 کی لائن تک مکمل انخلا کرنا ہوگا۔
شامی جولان پر منظور ہونے والی یہ قرارداد مصر کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔