اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)نصیر آباد اور لوہی بھیر کے علاقوں میں ٹک ٹاکر ایمان کے ساتھ ہونے والے تشدد اور بال کاٹنے کے واقعے میں ابتدائی تحقیقات سے اہم معلومات سامنے آئیں ہیں ذرائع کے مطابق یہ معاملہ سالگرہ کی تقریب کے دوران شدت اختیار کر گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ایمان نے سالگرہ کی تقریب میں نظار خان عرف ارمان خان کے شادی شدہ ہونے کے باوجود ان کے مبینہ تعلقات کا ذکر کیا، جسے وہاں موجود نظار خان کی اہلیہ نے بھی سن لیا۔ اس پر مبینہ طور پر ایمان کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بال کاٹ کر ویڈیو بنائی گئی۔
ایف آئی آر میں چار مرکزی ملزمان کے نام درج ہیں: نظار خان عرف ارمان خان، انیس خان عرف دورانی، جلیل عرف مٹھو، اور جبار خان، جو ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔ ان کے ساتھ ملوث دیگر لڑکیاں بھی روپوش ہیں، جبکہ ایک مرکزی ملزم کے خیبر پختونخوا فرار ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر تنویر سپرا نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چار مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے گرفتار تین ملزمان سے بھی تفتیش جاری ہے، اور ان کے موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا ہے۔
واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ نصیر آباد میں درج کیا گیا ہے، جہاں ثنا نامی لڑکی، چار دیگر لڑکیاں اور چار لڑکے بھی تقریب میں موجود تھے اور تفتیش کے لیے شامل ہیں۔ پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، تاہم ابھی تک مرکزی ملزمان کی گرفتاری ممکن نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق، متاثرہ ٹک ٹاکر ایمان کو اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی مقبولیت کی وجہ سے سالگرہ کی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ پولیس کی ٹیمیں فرار ملزمان کی تلاش اور دیگر شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں، تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔