اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور گزشتہ رات پیک ٹائم کے دوران بجلی کی فراہمی نسبتاً بہتر رہی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس دوران ڈیموں سے زیادہ پانی کے اخراج کے باعث 5125 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی، جس سے نظام میں استحکام پیدا ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں کے درمیان تقریباً 400 میگاواٹ بجلی کی ترسیل گرڈ کے بہتر استحکام کی بدولت جاری رہی۔ اسی وجہ سے تقسیم کار کمپنیوں نے صرف ایک سے دو گھنٹے تک محدود لوڈ مینیجمنٹ کی۔
ترجمان پاور ڈویژن نے یہ بھی بتایا کہ اگر مائع قدرتی گیس کی دستیابی بہتر ہو جائے تو پیک ٹائم میں لوڈ منیجمنٹ تقریباً ختم ہو سکتی ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں تقریباً 5500 میگاواٹ کے پاور پلانٹس ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث پیداوار نہیں دے پا رہے۔
دوسری جانب لیسکو کے ترجمان کے مطابق ریجن میں بجلی کی طلب 2421 میگاواٹ جبکہ سپلائی 2550 میگاواٹ رہی، جس سے واضح ہے کہ مجموعی طور پر طلب و رسد میں کوئی بڑا شارٹ فال نہیں رہا۔ بہتر سپلائی کی وجہ سے صرف ایک سے دو گھنٹے کی محدود لوڈ منیجمنٹ کی گئی۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ دن کے اوقات میں لوڈ منیجمنٹ صرف ان فیڈرز تک محدود رہی جہاں لائن لاسز زیادہ تھے، جبکہ مجموعی نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی گئی۔ ان کے مطابق لوڈ مینجمنٹ کا مقصد سپلائی اور طلب کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور نظام کو دباؤ سے بچانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی فراہمی بہتر رہی تو آنے والے دنوں میں بجلی کی صورتحال مزید مستحکم ہو سکتی ہے اور لوڈ شیڈنگ میں مزید کمی کا امکان ہے۔