اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور ان کی اہلیہ کو عدالتی فیصلوں کی مکمل پاسداری کرنی ہوگی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہائی کورٹ نے ملاقات کے طریقہ کار کا تعین کر رکھا ہے، اور اس بار ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ ایک ساتھ موجود تھے، جس سے حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے متعدد مواقع پر مذاکرات کی پیشکش کی، جن میں فلور آف دی ہاؤس پر مذاکرات، قومی اسمبلی اجلاس کے دوران دو مرتبہ دعوت، اور چوتھی مرتبہ کابینہ اجلاس میں ملاقات کی دعوت شامل تھی۔ تاہم، پی ٹی آئی کی جانب سے ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا کہ ان کے پاس اختیار ہی نہیں۔ مشیر نے کہا کہ وزیراعظم کسی بھی پیشکش سے پہلے اسٹیبلشمنٹ اور پارٹی لیڈر کو اعتماد میں لیتے ہیں، لیکن اب پی ٹی آئی تحریک کا اعلان کرنے کے بعد حکومت سے مذاکرات کی بات کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی ملاقات، مذاکرات یا ٹیبل پر بیٹھنے سے گریز کر رہے ہیں، اور یہ رویہ گزشتہ 15 سال سے جاری ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بطور وزیراعظم بھی بانی کبھی مذاکرات کے لیے ٹیبل پر نہیں آئے اور اکثر مخالفین کے خلاف موقف اختیار کرتے رہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ پلوامہ کے معاملے پر عسکری قیادت اور اپوزیشن کا ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے باوجود بانی پی ٹی آئی کمیٹی روم سے نہیں اٹھے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر بانی ملاقات نہیں کرنا چاہتے تو حکومت انہیں منانے کی کوشش نہیں کرے گی، اور ریاست سے ٹکرانے کی پالیسی جاری رکھنے پر ان کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے اقدامات کا منفی اثر پڑے گا۔ حکومت مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے، لیکن بانی کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بات چیت یا مفاہمت کے لیے تیار نہیں۔یہ بیان پی ٹی آئی کے بانی کے رویے اور حکومت کی مذاکراتی کوششوں کی تفصیل فراہم کرتا ہے اور ملکی سیاسی ماحول میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔