اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ق) کے قائد میاں نواز شریف نے پنجاب کے ضمنی انتخابات اور ملک کی سیاسی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان تو کیا، لیکن اسی دوران پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری عمر ایوب کی اہلیہ انتخابی میدان میں موجود تھیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو “عجیب و غریب تضاد” قرار دیا۔
نومنتخب ارکانِ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ دورِ حکومت میں ملک کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق اس دور میں بدزبانی، الزام تراشی اور انتشار کو پروان چڑھایا گیا، جس نے سیاسی ماحول کو زہریلا اور معیشت کو کمزور کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے دور میں مہنگائی 39 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں یہ شرح محض 3 فیصد تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ترقی کا تسلسل نہ ٹوٹتا تو آج پاکستان ایک مضبوط معاشی پوزیشن میں ہوتا اور آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑتی۔
نواز شریف نے 2018 سے 2022 تک کے دور کو ملک کے لیے سب سے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذمہ دار نہ صرف پی ٹی آئی کے رہنما ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جنہوں نے انہیں اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹ اور نفرت کی سیاست کو فروغ دے کر ترقی کی راہ روک دی گئی۔
انہوں نے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی کارکردگی پر مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ووٹ کے ذریعے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ انتشار اور گالی گلوچ کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ نواز شریف کے مطابق، لوگوں نے ترقی، خدمت اور استحکام کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
خطاب کے آخر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ملک میں میرٹ کے مطابق فیصلے کیے جا رہے ہیں، ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری ہیں، لیپ ٹاپ اسکیم، سڑکوں کی تعمیر، گرین بس سروس اور راشن کارڈ جیسے منصوبوں سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ امن و امان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوچکی ہے۔