اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اتوار کے روز مونٹریال کے بیل سینٹر میں 10 ہزار سے زائد ڈاکٹروں، طبی طلبہ اور شہریوں نے صوبائی حکومت کے نئے قانون بل نمبر 2 کے خلاف احتجاج کیا، جو ڈاکٹروں کی تنخواہوں کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیاں متعارف کراتا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون طبی پیشے اور مریضوں کی نگہداشت دونوں کے لیے خطرہ ہے۔یہ احتجاج چار بڑی میڈیکل فیڈریشنز کی جانب سے منظم کیا گیا، جنہوں نے وزیرِاعلیٰ فرانسوا لوگو اور وزیرِ صحت کرسچن ڈوبے سے مطالبہ کیا کہ وہ بل نمبر 2 پر عمل درآمد معطل کریں۔
فیڈریشن آف جنرل پریکٹیشنرز آف کیوبیک کے صدر ڈاکٹر مارک آندرے ایمیوٹ نے کہایہ کیوبیک کے تمام ماہرین کی متحدہ آواز ہے۔ حکومت اگر اس بل کو زبردستی نافذ کرتی رہی تو تباہی یقینی ہے۔ پہلے ہی 550 ڈاکٹر صوبہ چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔”یہ قانون 25 اکتوبر کو منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت ڈاکٹروں کی آمدنی کا ایک حصہ کارکردگی کے اہداف سے منسلک کر دیا گیا ہے، اور ان ڈاکٹروں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں جو اس تبدیلی کے خلاف احتجاج یا بائیکاٹ کریں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ قانون ان کی آزادی محدود کرتا ہے اور انہیں صوبہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اساتذہ کی طرح میڈیکل تنظیموں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس قانون کو عدالت میں چیلنج کریں گی۔
احتجاج میں شریک افراد پورے کیوبیک سے آئے، جن میں سے کئی ریموسکی اور ترووا-ریویئرز جیسے دور دراز علاقوں سے 17 بسوں کے ذریعے پہنچے۔ منتظمین کے مطابق 12,500 سے زیادہ افراد بیل سینٹر میں جمع ہوئےریلی کا آغاز دی ڈاک شو” نامی بینڈ کے پرفارمنس سے ہوا، جس میں درجن بھر ڈاکٹرز نے موسیقی کے ذریعے احتجاج کا اظہار کیا۔
ہال میں مختلف بینرز نمایاں تھے، جن پر لکھا تھا “میں اپنے ڈاکٹر سے محبت کرتا ہوں” اور “صحت فروخت نہیں کی جا سکتی”۔تقاریر کے دوران ڈاکٹروں اور طلبہ نے ویڈیوز کے ذریعے بتایا کہ یہ قانون "ظالمانہ افسوسناک اور فاسٹ فوڈ جیسی طبی سہولت” متعارف کرا رہا ہے یعنی ڈاکٹروں کی تنخواہ مریضوں کی تعداد سے منسلک کر کے معیار کے بجائے رفتار پر زور دیا جا رہا ہے۔
میگیل یونیورسٹی کے طلبہ تنظیم کے صدر رائن کارا نے کہا:”یہ بل ڈاکٹروں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر مریض کے لیے صرف پانچ سے دس منٹ نکالیں، تاکہ کارکردگی بہتر دکھائی دے۔ یہ خطرناک رجحان ہے۔”کلینک ایم ڈی سی ایم کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر جارج مائیکلز نے کہامیں 40 سال سے کیوبیک میں طب کر رہا ہوں، لیکن اتنی بری اصلاحات پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔”سرجن نکولس ہمیلین نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام "کیوبیک کے صحت کے نظام کے لیے سست زہر” ہے۔
یہ خبربھی پڑھیں :مونٹریال کے بزرگ شہریوں کا بغیر نوٹس بے دخل کرنے کے بعد احتجاج
حکومت نے اکتوبر کے آخر میں بل کو تیزی سے منظور کراتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد تمام شہریوں کو خاندانی ڈاکٹروں اور بروقت علاج تک رسائی فراہم کرنا ہے۔الیکس فیلیون، جن کی اہلیہ کینسر اسپیشلسٹ ہیں نے کہاحکومت کا اس قانون کو زبردستی نافذ کرنا غیر منطقی ہے۔
طلبہ رہنما رائن کارا نے مزید کہا کہ یہ قانون ڈاکٹروں کے اجتماعی احتجاج کے حق اور اظہارِ رائے کی آزادی کو سلب کرتا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نے قانون سازی سے پہلے ڈاکٹروں سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ڈاکٹر مائیکلز نے کہا حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹروں سے مل کر پالیسیاں بنائے، یہی بہترین حل کا راستہ ہےیہ احتجاج پہلا نہیں تھا گزشتہ ہفتے کیوبیک سٹی میں بھی ایک ہزار سے زائد افراد نے اسی بل کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔
بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد، وزیرِ صحت کرسچن ڈوبے نے منگل کے روز اعلان کیا کہ بل کی دو شقوں کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے۔ حکومت فی الحال میڈیکل اسپیشلسٹس کے ابتدائی معائنوں پر دی جانے والی بونس ادائیگی جاری رکھے گی، جسے بل کے تحت ختم کیا جانا تھا۔