اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پنجاب کے مختلف شہر شدید فضائی آلودگی اور سموگ کی لپیٹ میں ہیں، جہاں ہفتے کی صبح ہوا کے معیار میں خطرناک حد تک بگاڑ ریکارڈ کیا گیا۔
بین الاقوامی ماحولیاتی ادارے آئی کیو ائیر کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور قصور میں فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 500 تک پہنچ گیا، جو خطرناک ترین سطح ہے۔ ان دونوں شہروں میں آلودگی کی شدت نے لاہور کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور میں اے کیو آئی 385، شیخوپورہ میں 313 اور گوجرانوالہ میں 243 ریکارڈ کیا گیا۔ بعض مقامات پر یہ سطح اس سے بھی زیادہ دیکھی گئی — مثلاً گوجرانوالہ میں 442، لاہور میں 400 اور فیصل آباد میں 337 تک۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شدت میں نمایاں فرق رہا۔ سول سیکرٹریٹ میں اے کیو آئی 1018، وائلڈ لائف پارکس میں 997 اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے علاقے میں 820 تک پہنچ گیا۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق شاہدرہ، ملتان روڈ اور جی ٹی روڈ پر اے کیو آئی 500، جبکہ برکی روڈ، ایجرٹن روڈ اور کاہنہ میں بالترتیب 396، 377 اور 365 ریکارڈ کیا گیا۔
آلودگی کی وجوہات
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی بڑی وجوہات میں بھارتی سرحدی علاقوں سے آنے والی آلودہ ہوائیں، درجہ حرارت میں کمی، کم ہوا کی رفتار (ایک سے چار کلومیٹر فی گھنٹہ) اور بارش کی عدم موجودگی شامل ہیں۔ان عوامل کے باعث آلودگی کے بکھراؤ میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
حکومتِ پنجاب کے اقدامات
محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق دن کے اوقات میں، خصوصاً دوپہر سے شام کے دوران، ہوا کی رفتار میں معمولی اضافہ متوقع ہے جس سے فضائی معیار میں جزوی بہتری آ سکتی ہے۔ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام متعلقہ ادارے انسدادِ سموگ مہم میں مصروف ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کنٹرول، پانی کے چھڑکاؤ، فیکٹریوں کی نگرانی اور انڈسٹریل چیکنگ مہمات تین شفٹوں میں جاری ہیں۔
عوام کے لیے ہدایات
محکمہ ماحولیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک اور حفاظتی عینک کا استعمال کریں اور زیادہ سے زیادہ گھروں کے اندر رہنے کی کوشش کریں۔ترجمان نے کہا کہ حکومت کے تمام ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں، اور فی الحال کسی قسم کی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرِ ماحولیات مریم شاہ کے مطابق رواں سال کے آغاز پر فضا نسبتاً صاف تھی، تاہم اکتوبر 2025 میں پی ایم 2.5 ذرات کی سطح گزشتہ سال کے برابر پہنچ چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نومبر، جو سموگ کا خطرناک ترین مہینہ سمجھا جاتا ہے، میں داخل ہوتے ہوئے موجودہ حالات گزشتہ برس کی طرح شدید سموگ کے امکانات بڑھا رہے ہیں۔