اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ ایک ایسے موسمی بحران کا شکار ہے جس نے نہ صرف ریکارڈ توڑ دیے بلکہ زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
گزشتہ 15 سال میں سب سے سرد نومبر کی رات ریکارڈ کی گئی، جب اسکاٹ لینڈ میں درجہ حرارت منفی 12.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ برطانیہ کے دیگر حصوں میں بھی برف باری اور شدید سردی نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا، ویلز میں منفی 7.2، انگلینڈ میں منفی 6.7 اور شمالی آئرلینڈ میں منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیے گئے۔
سردی کی شدت کے باعث اسکول بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، خاص طور پر اسکاٹ لینڈ، نارتھ یارکشائر، ایسٹ یارکشائر، ویلز اور پینرتھ شائر میں جہاں بچوں اور اہل خانہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ نقل و حمل کے نظام بھی شدید متاثر ہوئے؛ گاڑیاں برف باری کے باعث سڑکوں پر پھنس گئیں اور بجلی کی سپلائی کئی علاقوں میں معطل ہوگئی۔ گلاسگو سینٹرل میں کچھ ٹرینیں بھی متاثر ہوئیں کیونکہ اوور ہیڈ لائنز کو نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے مسافروں کو ایڈوانس معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
برطانیہ ہیلتھ ایجنسی نے شمال مشرق اور یارکشائر و ہمبر کے علاقوں میں امبر الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ دیگر علاقوں کے لیے ییلو الرٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ الرٹس عوام کو انتباہ دیتی ہیں کہ سردی کی شدت زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور بیماروں کے لیے۔
یہ شدید سردی نہ صرف موسمی ریکارڈ توڑ رہی ہے بلکہ انسانی زندگی پر بھی ایک سنگین دھچکا ہے۔ برطانیہ کے لوگ اب حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے ہنگامی خدمات فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔یہ لمحہ یاد دلاتا ہے کہ قدرت کی طاقت کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور شدید موسمی حالات میں بروقت اقدامات ہی انسانی جانوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔