فافن کی رپورٹ کے مطابق 8 فروری کو ہونیوالے انتخابات کیلئے ملک میں ریکارڈ 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن بڑھنے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، 2018 میں ووٹرز کا صنفی فرق 11.8 فیصد تھا جو اب 7.7 فیصد ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق 2018 کے بعد خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن مردوں سے بڑھ گئی ،
نئے رجسٹرڈ 2 کروڑ 25 لاکھ ووٹرز میں ایک کروڑ 25 لاکھ خواتین اور ایک کروڑ مرد ہیں، 2018 میں 85 اضلاع میں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ تھا، اب ان اضلاع کی تعداد 85 سے کم ہو کر 24 رہ گئی۔رپورٹ میں بتایاگیا کہ جن قومی اسمبلی کے حلقوں میں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ تھا ان کی تعداد 173 سے کم ہو کر 38 رہ گئی جن میں خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کے 12، بلوچستان سے 11 ، سندھ سے 10 اور پنجاب سے 5 حلقے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق جن صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں صنفی فرق 10 فیصد سے زائد تھا ان کی تعداد اب 398 سے کم ہو کر 102 ہو گئی ، ان میں سندھ کے 31، بلوچستان کے 30، خیبر پختونخوا کے 24 اور پنجاب کے 17 حلقے شامل ہیں۔