اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پولیئورحالیہ انتخابات میں شکست کے بعد دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں
لیکن اس کے باوجود وہ اپنی حکمتِ عملی میں کسی قسم کی تبدیلی کے خواہشمند نظر نہیں آتے۔دو اراکینِ پارلیمنٹ کے پارٹی چھوڑنے اور عوامی مقبولیت میں کمی کے باوجود پولیئیور کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی قیادت یا اندازِ سیاست پر ’’غور‘‘ کرنے کی ضرورت نہیں۔ان کے اس مؤقف نے سیاسی حلقوں میں یہ سوال کھڑا کر دیا ہےپولیئیور کے قریب رہنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ’’پیئر وہی ہے جو وہ ہے‘‘— یعنی نہ وہ اپنے رویے میں بدلاؤ لاتے ہیں، نہ سیاسی لہجے میں نرمی پیدا کرتے ہیں۔2022 کی رہنمائی کی دوڑ میں یہی خصوصیت ان کی سب سے بڑی طاقت سمجھی گئی، خاص طور پر سابق رہنما ایرِن او ٹول کے برعکس جن پر یہ تنقید ہوتی تھی کہ وہ بیس کو کچھ کہتے ہیں اور عوامی ووٹ کے لیے اپنا مؤقف بدل دیتے ہیں۔لیکن ایک بار الیکشن ہارنے کے بعد یہی ضد اور سخت لہجہ پولیئیور کی کمزوری بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
الیکشن ہارنے کے باوجود حکمتِ عملی وہی
ایک موقع پر پولیئیور رائے شماری میں اس وقت کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے دوگنی برتری رکھتے تھے، مگر الیکشن آتے آتے یہی برتری ختم ہوئی اور مارک کارنی کی قیادت میں لبرلز نے غیر متوقع کامیابی حاصل کر لی۔پولیئیور نے شکست کے باوجود اعلان کیا کہ انہیں اپنے لہجے، پالیسی یا قیادت پر غور کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی—حالانکہ ان کی جماعت کے دو ارکان پارٹی چھوڑ چکے، عوامی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے
حکمتِ عملی نہ بدلنے کی وجہ: بیس کی طاقت
تازہ تحقیق کے مطابق پولیئیور کنزرویٹو بیس کو مضبوطی سے متحرک رکھتے ہیں—اتنے مضبوطی سے کہ ماہرین کے مطابق اگر جماعت کوئی ’’معتدل‘‘ رہنما لے آئے تو شاید وہ پولیئیور جتنے ووٹ بھی نہ لے سکے۔ ایبیکس ڈیٹا کے سی ای او ڈیوڈ کولیٹو کہتے ہیں:’’اگر لوگوں کو مارک کارنی پسند ہیں، اور پھر کنزرویٹو بھی کسی ایسے رہنما کو لے آئیں جو انہی جیسا ہو، تو وہ اصلی کے بجائے نقل کو کیوں منتخب کریں؟‘‘
اس لیے پولیئیور کے لیے تبدیلی لانا جتنا خطرناک ہے، اتنا ہی نہ بدلنا بھی ہے۔
پارٹی کے اندر دباؤ ،جنوری کا کنونشن اہم موڑ
پارٹی کے اندرونی حلقے گلوبل نیوز کو بتاتے ہیں کہ پولیئیور کی ٹیم جنوری 2026 کے کنونشن اور لیڈرشپ ریویو ووٹ کو سب سے اہم مسئلہ سمجھ رہی ہے۔پولیئیور کو چاہیے کہ وہ اس ووٹ میں بھاری اکثریت حاصل کریں، تاکہ وہ اسٹیفن ہارپر کے بعد پہلے رہنما بن سکیں جنہیں دوسری بار الیکشن لڑنے کا موقع ملا۔
عوامی مقبولیت میں تیز گراوٹ
اگرچہ کنزرویٹو ووٹرز ان سے خوش ہیں، لیکن عام ووٹرز میں پولیئیور کی مقبولیت گرتی جا رہی ہے۔تازہ انگس ریڈ انسٹیٹیوٹ سروے کے مطابق 60 فیصد کینیڈینز کی رائے پولیئیور کے بارے میں منفی، صرف 34 فیصد کی رائے مثبت ، نیٹ اسکور -26 (قیادت سنبھالنے کے بعد سب سے خراب)مزید یہ کہ، کنزرویٹو کے ووٹ (38 فیصد) پولیئیور کی ذاتی مقبولیت (34 فیصد) سے زیادہ ہیں جس کا مطلب ہے کہ رہنما خود پارٹی کے لیے بوجھ بن رہے ہیں۔جہاں پولیئیور ووٹرز کھو رہے ہیں،2024 کے آخر میں پولیئیور کے پاس واضح برتری تھی
صرف بیس پر انحصار کافی نہیں
2025 میں کنزرویٹو پارٹی نے 41 فیصدعوامی ووٹ حاصل کیے جو پارٹی کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے— مگر پھر بھی حکومت نہ بنا سکی۔آگے جا کر لبرلز کمزور پڑ سکتے ہیں اور این ڈی پی نیا لیڈر لانے سے واپس اٹھ سکتی ہے، مگر کنزرویٹو اگر انہی عوامل پر انحصار کریں تو یہ اپنی سیاسی قسمت دوسروں کے ہاتھ میں دے رہے ہیں۔ایبیکس ڈیٹا کے مطابق پولیئیور کی مقبولیت کی ’’چھت‘‘ وہیں ہے جہاں تھی۔مزید ووٹرز کو اپنی طرف لانے کا امکان کم ہوتا جا رہا ہے۔اور اگر وہ اپنے لہجے میں نرمی لاتے ہیں تو خطرہ ہے کہ ان کا بیس ناراض ہو جائے۔
نتیجہ اگلی بار کچھ مختلف ہوگا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیئیور کو اندرونی حمایت برقرار رکھنے کے لیے بدلنا نہیںلیکن الیکشن جیتنے کے لیے بدلنا ضروری ہے،یہی وہ دوہرا دباؤ ہے جس نے کنزرویٹو قیادت کو مشکل ترین مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔اگلی انتخابی مہم میں پولیئیور وہی حکمتِ عملی دہرانے جا رہے ہیںایک ایسی حکمتِ عملی جس نے پہلی بار حکومت نہیں بننے دی۔کیا بدلتے سیاسی حالات اگلی بار ان کے حق میں کام کریں گے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب وقت ہی دے گا۔