اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت افغان طالبان کو پشت پناہی فراہم کر رہا ہے اور اس کے ذریعے پاکستان کے خلاف کم شدت کی کشیدگی یا جنگ چھیڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئی دہلی اور افغان طالبان کے باہمی تعلقات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ جب طالبان کے ایک اعلیٰ رہنما بھارت میں تھا تو اسی دوران پاکستان اور افغانستان میں جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیا اور لڑائی میں کئی جوان شہید بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جارحیت کا مؤثر اور سخت ردعمل دیا گیا۔
وزیردفاع نے انٹرویو میں مزید کہا کہ چند ماہ قبل ہونے والی جھڑپوں میں بھارت کو نقصان اٹھانا پڑا اور اس دوران بھارتی طیارے بھی تباہ ہوئے، جس کا ذکر بین الاقوامی رہنماؤں نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدور کے بیانات میں بھی اس قسم کے حوالوں کا ذکر آیا ہے۔
خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں اور حملوں کے لیے استعمال ہوتی رہی تو اسلام آباد خاموش نہیں بیٹھے گا۔ پاکستان ہمیشہ امن کی خواہش مند رہا ہے مگر اگر کابل تصادم کا راستہ اختیار کرے گا تو پاکستانی حکام بھرپور اور مؤثر ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
قبل ازیں بھی وزیردفاع نے کہا تھا کہ اگر طالبان نے اپنی پالیسی یا کنٹرول بھارت کے حوالے کر دیا ہے تو صورتِ حال مشکل ہو جائے گی اور ضرورت پڑنے پر پاکستان کو افغان زمین کے اندر جا کر بھی جواب دینا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لیے کوششیں کیں مگر اگر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف خطرات بڑھیں تو اس کا جواب دینا لازم ہوگا۔