اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے اقدامات باعثِ تشویش ہیں
اور اس عمل سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی مبینہ معطلی اور اس پر عملدرآمد میں رکاوٹوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا تھا، تاہم حالیہ اقدامات سے اس نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ صدر زرداری نے خاص طور پر ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی میں تعطل پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جو پانی کے بہاؤ اور منصوبہ بندی کے لیے نہایت اہم ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی تقسیم کا ایک اہم اور مؤثر فریم ورک ہے، جس نے دہائیوں تک دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کو قابو میں رکھا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی جیسے اہم وسائل کو سیاسی یا تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خطے کے کروڑوں لوگوں کے لیے سنگین خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا مسئلہ ایک حساس معاملہ ہے، اور سندھ طاس معاہدہ اس حوالے سے ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا خلاف ورزی مستقبل میں بڑے تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔