اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے اعلان کردہ اہم مالی امدادی پروگرام کے تحت اہل شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں رقوم کی ادائیگیوں کا آغاز آج سے ہو گیا ہے۔
یہ اقدام وزیرِاعظم مارک کارنی نے جنوری میں پیش کیا تھا جس کا مقصد کم آمدنی والے گھرانوں کو اشیائے ضروریہ اور روزمرہ اخراجات کے بڑھتے ہوئے دباؤ میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اہل افراد کو ایک اضافی مالی ادائیگی دی جا رہی ہے جو پہلے سے موجود سہ ماہی امدادی نظام میں عارضی اضافہ ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ شہری اس مالی امداد کے لیے اہل قرار پائے ہیں۔ اس ادائیگی کی مقدار گھرانے کی ساخت کے مطابق مختلف ہوگی، جس میں ایک اکیلا بالغ شخص زیادہ سے زیادہ دو سو ستائیس ڈالر تک حاصل کر سکتا ہے، جبکہ دو بچوں والے جوڑے کے لیے یہ رقم پانچ سو تینتیس ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ اضافی ادائیگی سالانہ امدادی رقم کا پچاس فیصد حصہ ہے اور حکومت کے مطابق باقاعدہ سہ ماہی ادائیگیوں میں بھی آئندہ پانچ برسوں کے دوران پچیس فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کا آغاز جولائی سے ہوگا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ رقوم اُن افراد کو خودکار طریقے سے فراہم کی جا رہی ہیں جو دو ہزار چوبیس کے ٹیکس گوشواروں کی بنیاد پر آمدنی کی مقررہ حد پر پورا اترتے ہیں۔ ادائیگیاں براہِ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہیں جبکہ بعض افراد کو ڈاک کے ذریعے چیک بھی موصول ہوں گے۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے برامپٹن کے ایک سپر اسٹور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عوام پر مہنگائی کے دباؤ کو کم کرے گا اور خاندانوں کو گرمیوں کے موسم میں مالی طور پر سہولت فراہم کرے گا۔
وزیرِ خزانہ فرانسوا فلپ شیمپین نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ حکومت کی ترجیح عوامی ریلیف ہے اور یہ پروگرام اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کی جانب سے مسلسل یہ پیغام ملا ہے کہ روزمرہ اخراجات اور مہنگائی ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے، اسی لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مالی امداد سے کم آمدنی والے طبقے کو وقتی ریلیف ضرور ملے گا تاہم طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے مزید پالیسی اقدامات کی ضرورت برقرار رہے گی۔