اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بار پھر انقلاب برپا ہو گیا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر پہلی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والی موبائل ایپلیکیشن اسٹور متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اسٹور کا مقصد صارفین کو ایپلیکیشنز کی تلاش، ڈاؤن لوڈ اور استعمال کے عمل کو نہایت ذاتی اور خودکار تجربے میں بدلنا ہے۔
اس نئے اسٹور کو عالمی سافٹ ویئر کمپنی نیو ٹیک انوویشنز نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اسٹور صارف کی استعمال کی عادات، دلچسپیاں اور ترجیحات کا تجزیہ کر کے بہترین ایپلیکیشنز کی سفارش کرے گا۔
کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسرلیان ہاؤ نے بتایاکہ "ہم نے AI اور مشین لرننگ کے جدید الگورتھمز کا استعمال کرتے ہوئے ایسا نظام بنایا ہے جو ہر صارف کے لیے منفرد اور موثر تجربہ فراہم کرتا ہے۔ صارف کو ہزاروں ایپس میں سے انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ اسٹور خود اسے بہترین ایپلیکیشنز دکھائے گا۔”
اسٹور کے کلیدی فیچرز
1. ذاتی سفارشات:
اسٹور صارف کی دلچسپی، سرچ ہسٹری اور استعمال کے پیٹرن کی بنیاد پر ایپس تجویز کرے گا۔
2. خودکار اپ ڈیٹس:
اسٹور خود ایپلیکیشنز کے اپ ڈیٹس کی نگرانی کرے گا اور ضرورت کے مطابق انہیں خود انسٹال کرے گا۔
3. انٹیلیجنٹ سرچ:
سرچ کے دوران AI صارف کے مطالبات کو سمجھ کر زیادہ درست اور متعلقہ نتائج فراہم کرے گا۔
4. پراویسی فیچرز:
اسٹور صارف کے ڈیٹا کو محفوظ رکھے گا اور اسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔
مارکیٹ میں ردِعمل
ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اسے موبائل ایپس کی دنیا میں ایک انقلاب قرار دیا ہے۔ مشہور تجزیہ کار فریڈریکا جینسن کے مطابق "یہ اسٹور نہ صرف صارف کے وقت کی بچت کرے گا بلکہ نئے ڈویلپرز کے لیے بھی موقع پیدا کرے گا کہ وہ اپنی ایپلیکیشنز کو زیادہ آسانی سے صحیح صارفین تک پہنچا سکیں۔”
ممکنہ چیلنجز
اگرچہ اسٹور انتہائی جدید ہے، مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ AI کے الگورتھمز میں موجود **ممکنہ تعصبات اور ڈیٹا کی غلط تشریح** صارف کے تجربے کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے اسٹور کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کرنا ضروری ہوگا۔یہ نیا AI اسٹور موبائل ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ صارفین کے لیے یہ ایک **ذاتی نوعیت کا اور خودکار ایپ تجربہ فراہم کرے گا، جبکہ ڈویلپرز کے لیے بھی نئی مارکیٹ اور مواقع کھولے گا۔ مستقبل میں ایسے اسٹورز موبائل ایپس کی دریافت اور استعمال کے طریقے کو یکسر بدل سکتے ہیں، اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں AI کے عملی استعمال کا نیا باب کھول سکتے ہیں۔