اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) تہران ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا اقتصادی پابندیوں کے خاتمے پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آمادہ
ہو تو تہران جوہری معاہدے کے حوالے سے ممکنہ سمجھوتوں پر غور کرنے کو تیار ہے۔یہ بات ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی نے برطانوی نشریاتی ادارے BBC کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے اور واشنگٹن کو عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی کسی معاہدے کا خواہاں ہے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم تہران کے ساتھ کسی جامع معاہدے تک پہنچنا “انتہائی مشکل” ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے بیان سے یہ اشارہ ملا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار سے متعلق تحفظات رکھتا ہے۔
تہران میں گفتگو کرتے ہوئے مجید تخت روانچی نے کہا کہ اگر امریکا مخلصانہ نیت کے ساتھ پابندیوں پر بات چیت شروع کرے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق دیگر امور پر بھی بات کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ پابندیوں کے خاتمے کا عمل مذاکرات کا بنیادی حصہ ہو۔تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا ایران تمام پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے یا مرحلہ وار نرمی پر بھی آمادہ ہو سکتا ہے۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی طرز پر 400 کلوگرام سے زائد انتہائی افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے پر تیار ہوگا، تو انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی حتمی پیش رفت کے بارے میں کہنا قبل از وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ فریقین کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔
یاد رہے کہ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کی تھیں جبکہ اس کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ تاہم بعد ازاں امریکا کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا اور ایران نے بھی بعض شرائط سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔موجودہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک بظاہر سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں، تاہم اصل پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پابندیوں اور جوہری سرگرمیوں سے متعلق اختلافات کس حد تک دور کیے جا سکتے ہیں۔