اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ماحول کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ایک عرب سفارتکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے کا مجوزہ مسودہ امریکا کو پیش کر دیا ہے جس میں یورینیئم کی افزودگی 60 فیصد سے کم کر کے 3.6 فیصد تک لانے کی پیشکش کی گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرب سفارتکار نے بتایا کہ ایران نے نہ صرف افزودگی کی شرح کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے بلکہ مستقبل میں سات سال تک جوہری افزودگی معطل رکھنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ سفارتکار کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکا فی الحال ایران سے “صفر افزودگی” کا مطالبہ نہیں کر رہا، تاہم واشنگٹن کی خواہش ہے کہ ایران اپنے موجودہ انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو بیرونِ ملک منتقل کرے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے ذخائر بیرون ملک بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے اس کے بجائے انہیں “ڈائلیوٹ” (کم افزودہ) کرنے کی پیشکش کی ہے۔ذرائع کے مطابق امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دس سال کے لیے معطل دیکھنا چاہتا ہے، جب کہ ایرانی تجویز میں سات سال کی مدت شامل ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی پیشکش امریکی مطالبات کو مکمل طور پر پورا کرنے کے لیے ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ جنیوا پہنچ چکے ہیں جہاں ممکنہ طور پر مزید بات چیت متوقع ہے۔ تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باعث اسرائیلی میڈیا نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ قریبی مدت میں ایران پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کا امکان دوبارہ بڑھ گیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران واقعی افزودگی کو 3.6 فیصد تک محدود کر دیتا ہے تو یہ 2015 کے جوہری معاہدے کی سطح کے قریب ہوگا، تاہم اصل مسئلہ موجودہ ذخائر، نگرانی کے نظام اور معاہدے کی مدت پر اختلافات ہیں۔ آئندہ چند ہفتے اس معاملے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
5