اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے اسرائیلی اور امریکی اہداف پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں جدید خیبر شکن اور قدر بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جن کے ذریعے حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت مختلف مراحل میں کیے گئے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ حملوں کا بنیادی ہدف دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز تھے، تاکہ ان کی عسکری رابطہ کاری اور آپریشنل صلاحیت کو متاثر کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق بعض میزائل جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھے، جو دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے ہدف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بناتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قدر میزائل درمیانے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بھاری وارہیڈ لے جانے کے قابل ہیں،
جبکہ خیبر شکن میزائل ایران کے جدید ترین ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے، جسے خاص طور پر میزائل دفاعی نظام کو ناکام بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان ہتھیاروں کے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے حملوں میں اپنی جدید عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر مبینہ کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی تھی، جس کے ردعمل میں ایران نے یہ جوابی حملے کیے۔دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتی ہے، جہاں علاقائی طاقتیں براہِ راست آمنے سامنے آ سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور عالمی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔بین الاقوامی برادری نے اس خطرناک صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے، تاہم موجودہ حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کشیدگی میں فوری کمی کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔