اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بن گیا ہے
جہاں آج ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود آج وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے اور ابتدائی نشست میں آئندہ باضابطہ مذاکرات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی، جب کہ کل ہونے والی اہم ملاقات کو فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات ایک انتہائی محفوظ اور خفیہ مقام پر منعقد ہوں گے جہاں میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہوگی، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔ان مذاکرات میں شہباز شریف اور اسحاق ڈار بھی شریک ہوں گے، جس سے اس عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وفد کی نمائندگی عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جو اہم سفارتی اور سیاسی شخصیات سمجھی جاتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں جنگ بندی کے خدوخال، کشیدگی کے خاتمے اور اعتماد سازی کے مختلف اقدامات زیر غور آئیں گے۔
پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقین کو قریب لانے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کر سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر امن اور استحکام کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کا یہ کردار اسے عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اجاگر کر رہا ہے، اور اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست اور سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔