اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے
جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات ہیں۔ایرانی وزیر کھیل احمد دونیامالی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران کے میچز امریکا سے منتقل نہیں کیے گئے تو ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی فٹبال فیڈریشن نے فیفا سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ ایران کے میچز امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کیے جائیں، تاہم تاحال اس درخواست پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
وزیر کھیل کا کہنا تھا کہ اگر فیفا ایران کی درخواست منظور کر لیتا ہے تو ٹیم کی شرکت یقینی ہو جائے گی، بصورت دیگر صورتحال پیچیدہ رہ سکتی ہے۔واضح رہے کہ آئندہ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کینیڈا، میکسیکو اور امریکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے تمام گروپ میچز امریکا میں شیڈول ہیں۔ تاہم حالیہ کشیدہ حالات کے باعث ایران نے امریکا میں کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر Donald Trump کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایرانی ٹیم کی مکمل سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اس بیان کے بعد ایران نے اپنے خدشات مزید سخت کر لیے ہیں۔
ایران فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے بھی واضح کیا کہ جب امریکا خود سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے رہا تو ایسی صورت میں ایرانی ٹیم کا وہاں جانا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران فیفا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ میچز کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔دوسری جانب ایرانی قومی فٹبال ٹیم نے سوشل میڈیا پر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ایران کو ورلڈ کپ سے باہر نہیں کر سکتا، اور ٹیم ہر حال میں ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے پرعزم ہے۔ماہرین کے مطابق اگر فیفا نے بروقت فیصلہ نہ کیا تو یہ معاملہ عالمی کھیلوں میں سیاست کے اثرات کی ایک بڑی مثال بن سکتا ہے، جس کے نتائج نہ صرف ایران بلکہ پورے ٹورنامنٹ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔