اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے
جہاں دونوں جانب سے سخت بیانات اور دھمکیوں کا تبادلہ سامنے آیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر Donald Trump کی حالیہ دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران کے سویلین انفرااسٹرکچر، خصوصاً بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں اس کا درد محسوس کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی حملے کا بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔
ادھر خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے بھی امریکی بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں، پروپیگنڈے اور میڈیا وار کے ذریعے امریکا اپنی ناکامیوں کو نہیں چھپا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ اور بیانات سے ایران کے خلاف ماضی کی ناکامیوں کی شرمندگی ختم نہیں کی جا سکتی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ملک کو شدید نقصان پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو اس کے لیے حالات انتہائی سنگین ہو جائیں گے اور زندگی مشکل بنا دی جائے گی۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے، اور اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو اس کے عالمی سطح پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔