اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے
جہاں حکومت نے ٹریفک قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ نئے قانون کے تحت خواتین نہ صرف موٹر سائیکل چلانے کی تربیت حاصل کرسکیں گی بلکہ امتحان دے کر ڈرائیونگ لائسنس بھی حاصل کرسکیں گی۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی صدر کے نائبِ اول محمد رضا عارف نے ٹریفک کوڈ میں ترمیم پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس پر عملدرآمد کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
ماضی میں ایران میں خواتین کے موٹر سائیکل چلانے پر واضح قانونی پابندی تو موجود نہیں تھی، تاہم عملی طور پر پولیس خواتین کو لائسنس جاری نہیں کرتی تھی۔ اس قانونی ابہام کے باعث اگر کوئی خاتون موٹر سائیکل چلاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوجاتی تو اسے مناسب قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا تھا اور ذمہ داری کا تعین بھی مشکل ہو جاتا تھا۔
نئے قانون کے تحت ٹریفک پولیس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خواتین درخواست گزاروں کو عملی تربیت فراہم کرے، ڈرائیونگ ٹیسٹ منعقد کرے اور معیار پر پورا اترنے والی امیدواروں کو لائسنس جاری کرے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ خواتین کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرے گا اور انہیں زیادہ خودمختاری فراہم کرے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں معاشی مشکلات اور سماجی مسائل کے باعث حکومت کو عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ بعض ناقدین اس فیصلے کو اصلاحات کی جانب ایک مثبت مگر ابتدائی قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ مبصرین کے مطابق اس سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے مزید تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔