اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں سلطنتِ عمان کی ثالثی میں منعقد ہوا، جس میں فریقین نے آئندہ ممکنہ معاہدے کے خدوخال پر پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔
مذاکرات کے اختتام پر ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ بعض بنیادی اصولوں پر مفاہمت ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے، تاہم عملی پیش رفت کا آغاز ہو گیا ہے اور بات چیت اب تکنیکی مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقین ممکنہ معاہدے کی دستاویزات پر کام کریں گے، تجاویز کا تبادلہ ہوگا اور آئندہ نشستوں میں نکات کو مزید واضح کیا جائے گا۔ ان کے بقول ابھی بھی کئی اہم موضوعات زیر غور ہیں جن پر تفصیلی بات چیت باقی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر زور دیا کہ طاقت کے استعمال سے متعلق امریکی دھمکیوں کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے کیونکہ ایسے بیانات مذاکراتی فضا کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سنجیدہ اور باوقار مذاکرات کا خواہاں ہے جو باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہوں۔
ذرائع کے مطابق اس دور میں امریکی وفد کی نمائندگی Steve Witkoff اور Jared Kushner نے کی۔ عمانی حکام نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور نکات کی وضاحت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ طور پر پابندیوں کے معاملے پر کسی درمیانی راستے کی تلاش کی جانب اہم قدم ہو سکتی ہے، تاہم اعتماد سازی اور عملی اقدامات کے بغیر حتمی معاہدہ آسان نہیں ہوگا۔ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ تاحال باضابطہ طور پر اعلان نہیں کی گئی، تاہم سفارتی حلقوں کے مطابق رابطے جاری رہیں گے اور آئندہ ہفتوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔