اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے،
جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے دوران مختلف حملوں اور جوابی دعوؤں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر مبینہ طور پر کلسٹر بموں اور میزائلوں سے حملے کیے گئے۔ جیسے ہی میزائل اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے، خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں (شیلٹرز) میں منتقل ہونا پڑا۔ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے کویت میں الشویخ بندرگاہ کے قریب امریکی بحری اثاثوں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق چھ امریکی ٹیکٹیکل جہازوں پر حملہ کیا گیا، جن میں سے تین کے سمندر میں غرق ہونے اور دیگر تین کے آگ کی لپیٹ میں آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق "وعدہ صادق چہارم” نامی آپریشن کے تحت حملوں کی ایک نئی لہر بھی شروع کی گئی، جس میں دبئی کے ساحلی علاقے اور ایک ہوٹل کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، تاہم اس کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
مزید برآں سعودی عرب کے علاقے الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئربیس کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر ری فیولنگ اور ایئر ٹرانسپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا گیا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعوے اکثر معلوماتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے زمینی حقائق کی تصدیق کے لیے قابلِ اعتماد اور آزاد ذرائع کا انتظار ضروری ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔