اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے درمیان ایران نے ایک اہم اور حکمت عملی پر مبنی فیصلہ کرتے ہوئے
اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ان جہازوں کے لیے کھولا جا رہا ہے جو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ سرگرمی میں شامل نہیں ہیں۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر ایران کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق، وہ تمام بحری جہاز جو “غیر معاندانہ” حیثیت رکھتے ہیں اور طے شدہ سکیورٹی اصولوں پر عمل کریں گے، انہیں اس اہم عالمی گزرگاہ سے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق جہازوں کو گزرنے سے قبل متعلقہ اداروں سے رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہوگی، تاکہ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف اقدامات نے عالمی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔ جنگ سے قبل روزانہ اوسطاً 120 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر محض چند جہازوں تک محدود ہو گئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش یا محدود فعالیت کا براہِ راست اثر عالمی توانائی منڈی پر پڑتا ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم تہران نے ان بیانات کو پہلے مسترد کیا تھا۔ اس کے باوجود حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی مارکیٹس میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، اور ایشیائی اسٹاک ایکسچینجز میں مثبت رجحان سامنے آیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اقدام نہ صرف اس کی علاقائی خودمختاری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ عالمی دباؤ کے باوجود وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔