اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اسرائیلی حملے میں ایران کے وزیر برائے انٹیلی جنس اسماعیل خطیب شہید ہو گئے، جس کی تصدیق ایرانی حکام نے کر دی ہے۔
یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تناؤ مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں اسماعیل خطیب کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ بعد ازاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی ان کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے رات گئے کارروائی کے دوران ایرانی انٹیلی جنس کے ایک اہم ہدف کو نشانہ بنایا ہے، جسے بعد میں اسماعیل خطیب کے طور پر شناخت کیا گیا۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر حملے جاری ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران کے بوشہر ایٹمی پاور پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی عملے کا کوئی رکن زخمی ہوا۔ایرانی حکام کے مطابق حملے میں گرنے والے پروجیکٹائل پلانٹ کے احاطے میں گرے لیکن حساس تنصیبات محفوظ رہیں۔ ایران نے اس واقعے سے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ادھر ایران کی پارس گیس فیلڈ پر بھی اسرائیلی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں گیس کی پیداوار عارضی طور پر معطل ہو گئی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔
علاوہ ازیں اسلامی ممالک کی جانب سے ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کرے تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام پیدا نہ ہو۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار کی ہلاکت اور توانائی و ایٹمی تنصیبات پر حملے خطے کو ایک خطرناک موڑ پر لے آئے ہیں، جہاں کسی بھی وقت صورتحال مزید سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔