اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ "آپریشن وعدہ صادق 4” کی 16ویں لہر باضابطہ طور پر شروع کر دی گئی ہے، جس کے تحت اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی تعداد داغی گئی ہے۔پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے بیان کے مطابق حملوں کا ہدف اسرائیل کے مخصوص عسکری اور اسٹریٹیجک مراکز ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں جدید ڈرونز بھی اسرائیل کی سمت روانہ کیے گئے ہیں تاکہ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو حالیہ علاقائی کشیدگی اور اسرائیلی اقدامات کا ردعمل قرار دیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق آپریشن کے اگلے مراحل بھی زیر غور ہیں اور صورتحال کے مطابق مزید کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کو میدان میں فیصلہ کن برتری حاصل ہے اور آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔دوسری جانب اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ متعدد شہروں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور فضائی دفاعی نظام فوری طور پر فعال کر دیا گیا۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات یا جانی صورتحال کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سکیورٹی ادارے ہنگامی بنیادوں پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں سے خطے میں وسیع تر تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس وقت شدید تناؤ کی عکاسی کر رہے ہیں۔