اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل نے حالیہ جنگ بندی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام نے اس موقع پر وزیرِاعظم پاکستان Shehbaz Sharif اور Syed Asim Munir کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ Abbas Araghchi نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی کے قیام کے لیے مسلسل اور بھرپور کوششیں کیں، جنہیں سراہا جاتا ہے۔
ادھر امریکا کے صدر Donald Trump نے بھی وزیرِاعظم پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ بڑی کارروائی کی مدت میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی تھی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس دوران دو طرفہ جنگ بندی برقرار رہے گی تاکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے فوری کارروائی مؤخر کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ انداز میں کھولے، تاکہ خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے بیشتر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے پیش کیا گیا دس نکاتی منصوبہ آئندہ مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم اختلافات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور دو ہفتوں کی یہ مہلت ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول یہ پیش رفت خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی صورتحال مکمل طور پر معمول پر آ جائے گی۔