اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وفاقی دارالحکومت میں کچہری میں خودکش دھماکے کے بعد آج فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور عدالت کی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وکلا اور سائلین کی بڑی تعداد معمول کے مطابق پیش ہونے کے لیے کمپلیکس پہنچ گئی ہے، تاہم سکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی ہے اور ہر آنے والے شخص کی مکمل جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق وکلا کے کلرکس کو آفیشل کارڈ دکھانے کے بعد ہی اندر داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ سائلین کو تفصیلی تلاشی کے بعد اور ذاتی معلومات درج کروانے کے بعد کچہری میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے مقام سے تمام شواہد بھی سکیورٹی اداروں نے اکٹھے کر لیے ہیں۔
دوسری جانب، وکلا کی برادری نے سانحے کے خلاف دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے مطابق 13 اور 14 نومبر کو مکمل ہڑتال ہوگی اور وکلا عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔ فیملی کورٹس میں قائم ڈے کیئر سینٹر کو بھی چند روز کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جا سکیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج دھماکے اور ہڑتال کے باعث چار ججز نے صرف ضمانت اور ارجنٹ کیسز کی سماعت کی، جبکہ ریگولر اور سپلیمنٹری کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور دیگر ججز شہید وکیل زبیر گھمن کی تعزیت کے لیے بھی جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق، وکلا نے زیادہ تر کیسز میں سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کرنے کی استدعا کی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد بار کونسل نے کچہری میں دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ اور ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت عدالتیں محدود بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔