اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے بعد برطانیہ نے بھی اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
برطانوی حکومت نے اسرائیلی کابینہ کی جانب سے مغربی کنارے میں قبضے کو وسعت دینے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کابینہ کا یہ فیصلہ فلسطین کی جغرافیائی ساخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ہے، جو نہ صرف خطے میں امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں سے بھی متصادم ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ مغربی کنارے میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ پیش رفت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگی اور اس کے سنگین سیاسی و انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے تمام فیصلوں کو فوری طور پر واپس لے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل صرف مذاکرات اور دو ریاستی فارمولے کے تحت ہی ممکن ہے، جبکہ زمینی حقائق کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوششیں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو ایسے خطرناک اور اشتعال انگیز اقدامات سے باز رکھے۔ مسلم ممالک نے خبردار کیا تھا کہ ان فیصلوں سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔