اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے قریبی شہر کرج میں شدید فضائی حملوں اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
جن کے نتیجے میں درجنوں افراد کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تازہ حملوں کے بعد کئی علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی اور دھماکوں کی شدت کے باعث رات کے وقت آسمان روشن ہو گیا۔
دھماکوں سے شہر لرز اٹھا
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ فضائی حملوں میں تہران اور اس کے نواحی علاقوں میں واقع ایندھن کے ذخائر اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے بعد متعدد مقامات پر زوردار دھماکے ہوئے اور بڑے شعلے آسمان تک بلند ہوتے دکھائی دیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ دور دراز علاقوں تک شعلے اور دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے تھے۔
کرج میں بھی دھماکے
تہران کے قریبی شہر کرج میں بھی یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر آگ لگنے کے بعد فضا میں سرخ روشنی پھیل گئی جس سے رات کے اندھیرے میں پورا آسمان روشن دکھائی دے رہا تھا۔ امدادی ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کے عملے کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔
شہریوں میں خوف و ہراس
مسلسل فضائی حملوں کے باعث تہران کے شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ کئی رہائشیوں نے بتایا کہ میزائلوں اور طیاروں کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں اور عمارتیں لرزتی محسوس ہو رہی ہیں۔ کچھ شہریوں نے شہر چھوڑنے کی کوشش بھی کی ہے جبکہ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایران میں جاری جنگ کا پس منظر
یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کھلی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں مختلف فضائی حملوں اور میزائل کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے کئی فوجی اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ہزار سے تجاوز کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ماحولیاتی خطرات بھی بڑھ گئے
حملوں کے نتیجے میں بعض آئل ڈپو اور ایندھن کے ذخائر میں آگ لگنے سے فضا میں زہریلا دھواں پھیل گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے فضائی آلودگی، صحت کے مسائل اور ماحولیات پر طویل مدتی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ([The Guardian][4])