اسرائیل کا مغربی کنارے پر قبضہ ، 100ممالک کی مذمت

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اراضی کو نام نہاد ’ریاستی زمین‘ قرار دینے کے اسرائیلی اقدام پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق دنیا کے تقریباً 100 ممالک نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔اس معاملے پر یورپئن یونین ، عرب لیگ ، اور او آئی سی نے مشترکہ اور علیحدہ بیانات میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے سے متعلق حالیہ فیصلے فوری طور پر واپس لے اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کرے۔
فلسطینی مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے اور دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھائے تاکہ زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔
آٹھ رکنی مسلم بلاک کے وزرائے خارجہ نے بھی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن اور نئی آبادکاری پالیسی کی منظوری کی سخت مذمت کی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرناک ہے اور اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ایسے اقدامات کی منظوری دی جن کے تحت ویسٹ بینک کے ایریاز اے اور بی میں اسرائیلی سول اختیار کو وسعت دی جائے گی۔ یہ علاقے مجموعی طور پر تقریباً 40 فیصد مغربی کنارے پر مشتمل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو زمینی انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔
اسرائیلی این جی او Peace Now نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی نئی منصوبہ بندی 1967 کے بعد پہلی بار یروشلم کی بلدیاتی حدود کو مغربی کنارے تک بڑھانے کے مترادف ہو سکتی ہے۔ تنظیم کے مطابق مجوزہ توسیع جیووا بنیامین (ایڈم) نامی بستی کے مغرب کی سمت ہوگی، جسے براہِ راست موجودہ بستی سے نہیں بلکہ یروشلم سے جوڑا جائے گا، جو ایک نیا جغرافیائی و انتظامی تنازع کھڑا کر سکتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے امام پر پابندی
دوسری جانب مشرقی یروشلم میں واقع Al-Aqsa Mosque کے سینئر امام شیخ محمد العباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں مسجد کے احاطے میں داخلے سے ایک ہفتے کے لیے روک دیا ہے، اور اس پابندی میں توسیع کا بھی امکان ہے۔ یہ اقدام ماہِ رمضان سے چند روز قبل سامنے آیا ہے جس پر مذہبی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے یروشلم میں داخلے کے 10 ہزار اجازت ناموں کی سفارش کر رہی ہے، تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدامات مجموعی صورت حال کو متوازن کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت نہ صرف فلسطین-اسرائیل تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے بلکہ امن عمل کی بحالی کے امکانات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بڑھتی ہوئی مذمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ ایک بار پھر بین الاقوامی سفارت کاری کا مرکزی موضوع بنتا جا رہا ہے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں