اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)
معروف مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمن نے رواں سال کے لیے صدقۂ فطر، فدیۂ صوم اور کفارۂ صوم کی کم از کم مقدار کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق صدقۂ فطر اور ایک روزے کے فدیے کی کم از کم رقم تین سو روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے صاحبِ حیثیت افراد کو تلقین کی کہ وہ اپنی مالی استطاعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ادائیگی کریں تاکہ مستحقین کو بہتر سہولت میسر آ سکے۔
اعلان کے مطابق مختلف اجناس کے حساب سے صدقۂ فطر اور ایک روزے کے فدیے کی شرح درج ذیل ہے
گندم کا آٹا دو کلو (چکی والا): تین سو روپے
جَو چار کلو: ایک ہزار ایک سو ساٹھ روپے
کھجور چار کلو: دو ہزار آٹھ سو روپے
کشمش عمدہ چار کلو: سات ہزار دو سو روپے
اسی طرح روزہ بلا عذر توڑنے کے کفارے کے طور پر ساٹھ مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا لازم ہے۔ اس کی مالیت مختلف اجناس کے حساب سے یوں ہے:
-
گندم کا آٹا دو کلو کے حساب سے: اٹھارہ ہزار روپے
-
جَو چار کلو کے حساب سے: انہتر ہزار چھ سو روپے
-
کھجور چار کلو کے حساب سے: ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار روپے
-
کشمش چار کلو کے حساب سے: چار لاکھ بتیس ہزار روپے
مفتی منیب الرحمن نے وضاحت کی کہ یہ تمام رقوم کم از کم مقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو وافر دولت سے نوازا ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق زیادہ ادائیگی کریں، کیونکہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ جو شخص خوش دلی سے زیادہ دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فدیہ اُن دائمی مریضوں یا نہایت ضعیف العمر افراد کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی قدرت نہیں رکھتے اور بظاہر صحت یابی کی امید بھی نہ ہو۔ تاہم عارضی مریض یا مسافر اگر کسی عذر کے باعث روزہ نہ رکھ سکیں تو صحت یاب ہونے یا سفر سے واپسی کے بعد ان پر قضا لازم ہے، فدیہ اس کا بدل نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح جو شخص جان بوجھ کر بلا عذر روزہ توڑ دے، اس پر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا اور ایک روزے کی قضا لازم ہے۔ اگر وہ مسلسل روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو پھر مالی کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ مندرجہ بالا اجناس کی قیمتیں بازار میں وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور معیار کے فرق کی وجہ سے بھی نرخوں میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، لہٰذا ادائیگی کرتے وقت مقامی نرخوں کو مدنظر رکھا جائے۔