اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز )ایران کے خلاف امریکی فوج کی جانب سے جاری آپریشن “ایپک فیوری” میں جدید ترین ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی قیادت میں یہ آپریشن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں کو کنٹرول کر رہا ہے اور اس میں فضائی، زمینی اور بحری تینوں طاقتیں شامل ہیں۔
فضائی کارروائی کے دوران امریکی فوج نے B-52، B-1 اور سب سے جدید B-2 بمبار طیارے استعمال کیے ہیں، جہاں B-2 طیارہ ریڈار سے چھپ کر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ F-15، F-16 اور F-18 لڑاکا طیارے بھی فضائی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ جدید اسٹیلتھ طیارے F-22 اور F-35 بغیر نظر آئے نشانہ بنانے کی مہارت رکھتے ہیں اور ایران پر مؤثر حملے کر رہے ہیں۔
امریکی فوج کے خصوصی طیارے جیسے EA-18G اور EC-130H الیکٹرانک جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں، جو دشمن کے مواصلاتی نظام اور رادار کو متاثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ امریکی اہلکاروں کے مطابق آپریشن میں جدید ترین ڈرونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، جو فضائی نگرانی اور نشانہ بازی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔اس آپریشن کے ذریعے امریکہ ایران میں موجود فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے اور خطے میں اپنی فوجی طاقت کے مظاہرہ کے ساتھ ساتھ سلامتی کے خطرات کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے عالمی سطح پر خطرات کو کم کرنے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔