اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب تک کسی باہمی مفاہمت یا حتمی اتفاق رائے تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کئی اہم معاملات زیر بحث ہیں اور فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ بات چیت کا عمل آگے بڑھا رہے ہیں۔
مذاکرات سنجیدہ نوعیت کے ہیں
جیرڈ کشنر نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری رابطوں کے حوالے سے تفصیلات بیان کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جارہا ہے اور بات چیت کا دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ تاہم مذاکرات کی سنجیدگی کے باوجود ابھی تک دونوں فریق کسی ایسے سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے جسے باہمی مفاہمت یا حتمی پیش رفت قرار دیا جاسکے۔
کشنر کے مطابق بات چیت جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ دونوں جانب معاملات کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش موجود ہے، لیکن اہم اختلافات بدستور موجود ہیں۔
مختلف اداروں کے درمیان رابطے
امریکی صدر کے ایلچی نے کہا کہ ایران اور امریکا کی حکومتوں کے مختلف اداروں کے درمیان جاری مذاکرات شاید پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں۔
ان کے مطابق دونوں جانب متعدد سطحوں پر رابطے اور بات چیت ہورہی ہے، جس سے مذاکرات کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ تاہم ان رابطوں کے باوجود ابھی تک ایسا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ دونوں ممالک نے تمام اہم معاملات پر اتفاق کرلیا ہے۔
کشنر کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں مختلف اداروں اور حکومتی نمائندوں کی شمولیت سے فریقین کو اپنے اپنے تحفظات اور مطالبات ایک دوسرے کے سامنے رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
اتفاق رائے اب بھی دور
جیرڈ کشنر نے واضح کیا کہ مذاکرات کے باوجود ایران اور امریکا ابھی تک کسی باہمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد ایسے معاملات موجود ہیں جن پر اختلافات ختم ہونا باقی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کے باوجود حتمی مفاہمت کا اعلان نہیں کیا جاسکا۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی تقویت دی کہ مذاکرات کا جاری رہنا لازمی طور پر کسی فوری معاہدے کی ضمانت نہیں دیتا۔ دونوں جانب سے بات چیت کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔
سفارتی راستہ برقرار
ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، پابندیوں اور دیگر معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
ایسے ماحول میں مذاکرات کا جاری رہنا سفارتی سطح پر اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بات چیت کا راستہ کھلا رہنے سے دونوں ممالک کو براہ راست یا بالواسطہ رابطوں کے ذریعے اختلافات کم کرنے کا موقع ملتا ہے۔
کشنر کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فی الحال مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطے برقرار ہیں۔
ایران امریکا تعلقات کا پیچیدہ پس منظر
ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات نے عالمی سیاست کو متاثر کیا ہے۔
امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف رکھتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے اپنے پرامن جوہری حقوق حاصل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا، ایران امریکا مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا،ٹرمپ
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی، علاقائی اتحادیوں، میزائل پروگرام اور امریکی پابندیوں سمیت کئی معاملات بھی تنازع کا باعث رہے ہیں۔ان تمام مسائل کے باعث کسی جامع سمجھوتے تک پہنچنا ایک مشکل سفارتی عمل تصور کیا جاتا ہے۔
مذاکرات میں مشکلات برقرار
جیرڈ کشنر کے مطابق اگرچہ مذاکرات سنجیدہ اور وسیع ہیں، لیکن فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات ابھی ختم نہیں ہوئے۔مذاکرات میں ہر فریق اپنی ترجیحات کے تحفظ کی کوشش کررہا ہے۔ امریکا اپنے سکیورٹی خدشات اور مطالبات پر زور دے رہا ہے جبکہ ایران اپنی خودمختاری، معاشی مفادات اور جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔اسی لیے مذاکرات کے ہر مرحلے میں کسی نہ کسی معاملے پر اختلاف سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔
مزید بات چیت کی ضرورت
موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین اختلافی معاملات پر کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔
اگر دونوں جانب سے قابل قبول سمجھوتے کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو مذاکرات کسی بڑے سفارتی معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ تاہم اگر بنیادی اختلافات برقرار رہے تو بات چیت کا عمل طویل بھی ہوسکتا ہے۔
کشنر نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ ابھی تک کسی اتفاق رائے یا باہمی مفاہمت تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات ابھی ابتدائی یا درمیانی مرحلے سے آگے بڑھنے کے باوجود حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے۔
عالمی سطح پر نظریں مذاکرات پر
ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے، اقتصادی پابندیوں اور دیگر متنازع معاملات پر نئے راستے کھلنے کی امید پیدا ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوسکتا ہے۔
فی الحال جیرڈ کشنر کے بیان سے یہی واضح ہوتا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، دونوں جانب رابطے سنجیدہ ہیں، لیکن کسی حتمی سمجھوتے کے لیے ابھی مزید پیش رفت اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔
