اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات اسی وقت کیے جاتے ہیں جب کسی مثبت پیش رفت کی توقع ہو۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سنجیدگی اور دانش مندی سے فیصلے کرے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ فی الحال مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا مناسب نہیں کیونکہ کچھ نکات پر اعتراضات موجود ہیں۔ ان کے مطابق “ابھی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا، جب بات آگے بڑھے گی تو قوم کو اعتماد میں لیں گے۔”
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا وفد استنبول پہنچ چکا ہے، جہاں کل سے پاک-افغان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر بات چیت میں بہتری کے امکانات نہ ہوں تو مذاکرات محض وقت کا ضیاع ثابت ہوتے ہیں۔
27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ آئندہ ہفتے اس کی حتمی شکل سامنے آجائے گی۔ ان کے بقول، “تمام اتحادی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے، جو متفقہ مسودہ بنے گا، وہی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔”
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو اپنی رائے دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے آئینی ترمیم کا مسودہ جلد طے پا جائے گا۔