اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے ایران کے قریب ایک بڑی فوجی قوت تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے
جس میں جدید جنگی بحری جہاز اور فضائی طاقت شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو احتیاطی تدبیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، تاہم فی الحال کسی حتمی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ڈیوس سے واپسی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکا کی ایک بڑی فوجی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قریب یہ تعیناتی احتیاطی بنیادوں پر کی جا رہی ہے، اور آنے والے دنوں میں حالات کس رخ اختیار کرتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس دنیا کے جدید ترین اور طاقتور ترین ہتھیار موجود ہیں، اور وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کشیدگی کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو، تاہم ایران کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ٹرمپ نے ایک متنازع بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کی سخت وارننگ کے باعث ایران میں مبینہ طور پر پھانسیوں کا سلسلہ روکا گیا۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر پھانسیاں جاری رہیں تو فوجی کارروائی کی جائے گی، جس کے بعد ایران نے یہ عمل روک دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یہ پھانسیاں جاری رہتیں تو امریکا حملہ کرنے سے گریز نہ کرتا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر جلد 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جسے ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اقتصادی پابندیاں بھی امریکا کے اہم ہتھیاروں میں شامل ہیں۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب اس فوجی نقل و حرکت کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا لازمی طور پر فوری فوجی کارروائی کرے گا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اپنی بحری اور فضائی طاقت کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا کی یہ فوجی سرگرمی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری اس صورتحال پر تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے تعلقات کس سمت جاتے ہیں، اس کا انحصار دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔