اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک کی قومی اسمبلی میں موسمِ گرما کی تعطیلات سے قبل قانون سازی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اراکینِ اسمبلی کے پاس اب صرف چند دن باقی ہیں جن میں انہیں متعدد اہم قوانین پر غور اور منظوری کا عمل مکمل کرنا ہے، کیونکہ اجلاس کے اختتام کے بعد سیاسی جماعتیں خزاں میں ہونے والے انتخابات کی مہم کی تیاری شروع کر دیں گی۔
سیاسی مبصر ڈینیئل ٹران کے مطابق انتخابی دور سے قبل قانون سازی کی رفتار ہمیشہ تیز ہو جاتی ہے، کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی ترجیحات کو عملی شکل دینے اور عوام کے سامنے اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
منگل کے روز عوامی مشاورت کا آغاز ایک اہم مجوزہ قانون سے ہوا جس کے تحت سولہ برس سے کم عمر افراد کو توانائی بخش مشروبات فروخت کرنے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس قانون پر سماعت کے دوران کیوبیک کے ماہرینِ ادویات کی تنظیم کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔
تنظیم کے صدر ژاں فرانسوا دیسگانے نے کہا کہ بچوں کے ماہرین کی قومی انجمن توانائی بخش مشروبات کو "بہترین صورت میں غیر ضروری اور بدترین صورت میں خطرناک” قرار دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایسی مصنوعات ہیں جن کا طبی یا غذائی فائدہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
تنظیم کے انتظامی سربراہ پیٹرک بودرو نے کہا کہ ان مشروبات سے متعلق سامنے آنے والے واقعات اور طبی شواہد اب اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ فیصلہ کرنے کے لیے مزید انتظار کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
اپوزیشن کی لبرل جماعت نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اس قانون کی منظوری کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔ جماعت کے پارلیمانی رہنما مارک ٹینگوئے نے کہا کہ ان کی جماعت اس امر کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گی کہ یہ قانون مؤثر انداز میں نافذ ہو سکے۔
تاہم اس قانون پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ گزشتہ ہفتے اسے فوری منظوری دلوانے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی جب قدامت پسند جماعت سے تعلق رکھنے والی رکنِ اسمبلی مائیت بلانشیٹ ویزینا نے اس عمل کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ مجوزہ قانون حکومت کو ضابطہ سازی کے بہت وسیع اختیارات دے سکتا ہے، خصوصاً ان مشروبات کے حوالے سے جن میں چائے سے حاصل ہونے والی کیفین شامل ہو۔
یہ مجوزہ قانون ایک افسوسناک واقعے کے بعد سامنے آیا۔ پندرہ سالہ زیکری میرون اپنے تعلیمی ادارے کے ہمراہ برفانی تفریحی سفر پر تھا جب اس نے توانائی بخش مشروب کا ایک ڈبہ پیا۔ بعد ازاں اس مشروب کے اجزا اس کی توجہ کی کمی اور ضرورت سے زیادہ سرگرمی کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا کے ساتھ مل کر خطرناک ردِعمل کا سبب بنے، جس کے نتیجے میں اس کی جان چلی گئی۔
اس واقعے نے پورے صوبے میں نوجوانوں کی صحت، کیفین کے استعمال اور توانائی بخش مشروبات کی فروخت سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو کیوبیک نوجوانوں کو ایسے مشروبات کی فروخت محدود کرنے والے نمایاں علاقوں میں شامل ہو جائے گا۔