اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں شہری کونسل کے ایوان ایک بار پھر لوگوں سے بھر گئے جب پورے شہر میں نافذ کی گئی رہائشی زوننگ پالیسی کے خلاف جاری طویل عوامی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہی۔ اس موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے ذاتی تجربات، خدشات اور تحفظات نہایت جذباتی انداز میں پیش کیے۔
سماعت کے دوران متعدد شہریوں نے اس پالیسی کے طریقہ کار پر کھل کر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔ ان میں ایک مقرر، جو علاقے انگل ووڈ سے تعلق رکھنے والے ایک گھر کے مالک تھے، نے بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں اس زوننگ تبدیلی کی مخالفت کی تھی، مگر بعد میں اپنی رائے بدل کر اپنی جائیداد میں مزید دو رہائشی یونٹس بنانے کا منصوبہ بنایا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ان منصوبوں میں ایک ایسا یونٹ بھی شامل تھا جسے مکمل طور پر معذور افراد کے لیے قابل رسائی بنایا گیا تھا، جس میں لفٹ اور خصوصی پارکنگ کی سہولت شامل تھی۔ تاہم اب وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں شہر کی جانب سے متضاد ہدایات مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس منصوبے پر پہلے ہی ہزاروں ڈالر خرچ کر چکے ہیں اور اب انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ ہے یا نہیں۔
اسی طرح ماردا لوپ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے گھر کے ساتھ تین منزلہ عمارت کی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اس تعمیر کی وجہ سے ان کے گھر میں صبح کی روشنی تقریباً دوپہر تک نہیں پہنچ سکے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ منصوبہ سماعت شروع ہونے سے پہلے جمع ہو چکا تھا، اس لیے اب اس کے خلاف اپیل کا کوئی راستہ باقی نہیں۔
یہ رہائشی زوننگ قانون دراصل شہر میں مختلف اقسام کی رہائش کی اجازت دینے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا تاکہ آبادی کی کثافت میں اضافہ کیا جا سکے اور رہائش کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم اس کے اثرات پر شہریوں میں واضح اختلاف پایا جا رہا ہے۔
شہر کے میئر جیرومی فارکاس نے سماعت کے دوران کہا کہ کونسل اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اس پالیسی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے یا اسے برقرار رکھتے ہوئے اس کے قواعد و ضوابط کو مزید سخت بنایا جائے۔
اسی دوران وارڈ چار کے کونسلر ڈی جے کیلی نے اس صورتحال کو ایک مشکل توازن قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ جذبات اور منطق کے درمیان، اور احساسات اور حقائق کے درمیان ایک نازک توازن کا متقاضی ہے۔
یہ عوامی سماعت اب اپنے چوتھے دن میں داخل ہو چکی ہے اور امکان ہے کہ یہ اگلے ہفتے تک جاری رہے گی۔ اب تک چار سو پچیس سے زائد شہری اپنے خیالات پیش کرنے کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ کونسل کے اراکین مسلسل بارہ بارہ گھنٹے طویل اجلاسوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ کیلگری میں رہائشی پالیسی کا مستقبل ایک اہم اور حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔