اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)دو سال سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد آخرکار کینیڈا پوسٹ اور کینیڈین یونین آف پوسٹل ورکرز (CUPW) کے درمیان ایک اصولی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا اطلاق دونوں پوسٹل یونٹس پر ہوگا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں ملک بھر میں ڈاک اور پارسل کی ترسیل میں تعطل کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔
معاہدے کے مطابق، یونین نے ہڑتال کی کارروائی عارضی طور پر معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ کینیڈا پوسٹ نے اپنے ملازمین کو لاک آؤٹ نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ تاہم، دونوں فریقین نے اس معاہدے کی تفصیلات ابھی تک ظاہر نہیں کیں۔
CUPW کی صدر جین سمپسن نے ارکان کو جاری پیغام میں بتایا کہ اگر فریقین اس اصولی معاہدے کو حتمی زبان میں ڈھالنے پر متفق نہ ہو سکے، تو یہ معطلی ختم ہو جائے گی اور ہڑتال دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات ’’نہایت مشکل‘‘ رہے، مگر کارکنوں نے بہتر خدمات، موزوں اجرتوں اور پائیدار ڈاک سروس کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کی۔
یہ خبر بھی پڑھیں :کینیڈا پوسٹ ملازمین نے ملک گیر ہڑتال ختم کر دی، منگل سے ڈاک کی ترسیل دوبارہ شروع ہوگی
گزشتہ چند سالوں سے یونین اور کینیڈا پوسٹ کے درمیان تنخواہوں میں اضافہ اور ادارے کے ساختی تبدیلیوں کے منصوبوں پر شدید اختلافات چل رہے تھے۔ کینیڈا پوسٹ انتظامیہ نے زیادہ جز وقتی ملازمین کی بھرتی اور ہفتے کے ساتوں دن ترسیل کی تجویز پیش کی تھی، جس پر یونین نے سخت اعتراض کیا تھا۔ اس دوران، پوسٹل ورکرز متعدد بار ہڑتال بھی کر چکے ہیں، جن میں گزشتہ سال عید اور کرسمس سیزن سے قبل کی ہڑتال خاصی رکاوٹ کا سبب بنی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعلان ایسے دن سامنے آیا جب کینیڈا پوسٹ نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا سہ ماہی خسارہ ظاہر کیا۔ ادارے نے سال کے آغاز میں ایک ارب ڈالر کا حکومتی قرض لیا تھا، لیکن اب اسے آئندہ ایک سے دو ماہ میں مزید بیل آؤٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
معاہدہ طے ہونے سے کم از کم اس سال کی کرسمس ڈلیوری سیزن متاثر ہونے کا امکان نہیں رہا، جو صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے بڑی خوش خبری ہے۔