اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)صوبہ Ontario کے وزیرِاعلیٰ Doug Ford کا کہنا ہے کہ طلبہ مالی معاونت پروگرام میں تبدیلیوں کے اعلان کے بعد انہیں تشویش میں مبتلا طلبہ کی ہزاروں فون کالز موصول ہوئی ہیں۔
حکومت نے Ontario Student Assistance Program (اوساپ) کے ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے گرانٹس کا تناسب موجودہ 85 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد تک محدود کرنے اور پروگرام کو زیادہ تر قرضوں پر مبنی ماڈل میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈگ فورڈ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام پائیدار نہیں تھا اور بڑے قرضے طلبہ کو زیادہ ذمہ دار بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض شکایات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ طلبہ غیر ضروری اخراجات کرتے ہیں، جو ٹیکس دہندگان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ ایسے شعبوں کا انتخاب کریں جہاں ملازمتوں کے مواقع زیادہ ہوں، مثلاً صحت کا شعبہ یا ہنر مند پیشے۔
تاہم صحت کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں الٹا ان شعبوں میں داخلے کی حوصلہ شکنی کریں گی جہاں پہلے ہی شدید کمی کا سامنا ہے۔ Ontario Nurses Association کے مطابق صوبے میں اس وقت تقریباً 25 ہزار نرسوں کی کمی ہے، اور گرانٹس میں کمی مستقبل کی نرسوں کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ تنظیم کی صدر ایرن ایرس کا کہنا ہے کہ نرسنگ کے طلبہ پر تعلیمی دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جز وقتی یا کل وقتی ملازمت نہیں کر سکتے، اور ان میں سے بہت سے مالی طور پر پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔
ادھر صوبائی اسمبلی پانچ ہفتوں کے وقفے پر ہے، اور Ontario New Democratic Party اس موقع پر اسپتالوں کی صورتِ حال کو اجاگر کر رہی ہے۔ پارٹی رہنما Marit Stiles کا کہنا ہے کہ راہداریوں میں مریضوں کا علاج اب معمول بنتا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت نے اسے ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
ہال وے میڈیسن سے متعلق سوال پر فورڈ نے ناقدین کو حقائق جانچنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ان کی حکومت نے صحت کے شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مالی مشکلات کے شکار صحت کے طلبہ کے لیے دیگر صوبائی پروگرام موجود ہیں، جبکہ رواں خزاں سے ٹیوشن فیس میں دو فیصد اضافہ بھی متوقع ہے۔