اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے
جس سے خطے میں امن کی امید پیدا ہونے لگی ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان بیک ڈور سفارتی رابطے جاری ہیں، جن میں 45 روزہ عارضی سیز فائر پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں 45 دن کی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مستقل امن کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ اس عرصے میں اعتماد سازی کے مختلف اقدامات بھی زیر غور آئیں گے، جن کا مقصد ماحول کو سازگار بنانا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مرحلے میں ایک جامع اور باضابطہ معاہدہ طے پانے کی کوشش کی جائے گی، جس کے ذریعے جنگ کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی سیز فائر میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم حتمی کامیابی کا دارومدار دونوں فریقین کے اعتماد، سنجیدگی اور عملی اقدامات پر ہوگا۔ خطے میں حالیہ کشیدگی کے پیش نظر عالمی برادری بھی اس ممکنہ جنگ بندی کو نہایت اہمیت دے رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ 45 روزہ سیز فائر کامیاب رہتا ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔